گزشتہ دنوں ستائیس اکتوبر کا دن پاکستان،کشمیر اور دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیاجس کامقصد بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کی مذمت کرنا ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان،عسکری قیادت اور پوری پاکستانی قوم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تمام تر حالات میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور پوری دنیا کو باور کروایا کہ کس طرح نام نہاد جمہوریت کا راگ الاپنے والا ملک بھارت بے کس،مجبور ومقہوراور معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔ کتنا بڑا انسانی المیہ ہے کہ آج سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بیچارے کشمیری عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،دنیا یہیں سے بھارت کے مکروہ چہرے کا اندازہ بخوبی لگاسکتی ہے۔جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ جنوری 1948سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے اس ضمن میں کئی بار قراردادیں بھی پیش کی گئیں لیکن بدقسمتی سے تاحال کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا۔
بہرحال اب جہاں تک کشمیر کے معاملے کا تعلق ہے ویسے تو بیچارے کشمیری 74 سال کے ایک طویل عرصہ سے بھارتی جبر کا شکار ہیں اور جدوجہد آزادی کے لیئے ان گنت قربانیاں دے چکے ہیں۔لیکن 5 اگست 2019 کو جب مودی سرکار نے ایک متنازع قانون کے ذریعے آرٹیکل 370 اور 35Aکا خاتمہ کر کے نہ صرف کشمیریوں کی ایک الگ شناخت ختم کرنے کی مذموم کوشش کی بلکہ کرفیو کا نفاذ کر کے جس طرح نہتے کشمیریوں پر حالات زندگی تنگ کر دیئے ہیں اس سفاکیت کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔سر دست صورت حال یہ ہے کہ کرفیو کو دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کو ہے، ہر طرف ہو کا عالم ہے،جگہ جگہ بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں، لاچار کشمیری گھروں میں محصور ہو چکے ہیں،کمزور کشمیریوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور زندگی کی دم توڑ رہی ہے،لیکن دوسری طرف ذرائع کے مطابق گجرات کے بے رحم قصائی،ہٹلر اور چنگیزیوں کے پیروکار مودی نے ایسی چالیں چلناشروع کر رکھی ہیں کہ کسی بھی طرح اکثریت کو اقلیت میں بدل کر اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔
آبادی کے تناسب کو اس طرح بدلنے کا یہ منصوبہ جنیوا کنونشن کے تحت ایک طرح کا جنگی جرم ہے لیکن شر انگیز مودی تمام انسانی حدیں پار کر چکا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود عالمی برادری کی طرف سے ہنوز خاموشی کے بادل چھائے رہنا کافی معنی خیز ہے۔کیا کشمیریوں کا قصور صرف یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اگر اس طرح کے حالات کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے لیئے پیدا کر دیئے جاتے تو دنیا خاموشی سے یونہی بیٹھ کر تماشا دیکھتی رہتی ہر گز نہیں۔خیر سفارتی سطح پر پاکستان کی بھر پور کاوشوں کے بعد سلامتی کونسل نے پچھلے پچاس برس میں کشمیر کے معاملہ پر پہلی مرتبہ ایک خصوصی اجلاس بھی بلایا اور اقوام متحدہ کے پاس یہ ایک بہترین موقع بھی تھا کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروا کے کشمیر کے تنازع کا مستقل حل نکلوا دیتی۔لیکن یہاں بھی بد قسمتی سے سلسلہ چندمذ متی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکا۔ بہرکیف اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سر دست کشمیر کے معاملے کا حل کیا ہے؟ سفارتی سطح تک تو پاکستانی قیادت نے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان عالمی طاقتوں کو پہلے ہی یہ واضح پیغام دے چکے ہیں کہ ان کے پاس بہت بڑا موقع ہے کہ وہ اس معاملے کا تصفیہ طلب حل نکلوائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان آخری وقت تک کوشش کر رہا ہے کہ جنگ کی بجائے معاملات مذاکرات سے حل کیئے جائیں کیونکہ پاکستان ایک امن کا داعی ملک ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔فی ا لوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے علمبر دار کشمیر ی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ بے بس کشمیری عوام کو مودی کی وحشت و بربریت سے نجات دلوانے کے لیئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں اور بیچارے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کے لیئے مودی پر بھر پور دباؤ ڈالیں کہ وہ فی الفور کرفیو ہٹائے اور انہیں ان کے جائز حقوق دئیے جائیں۔ اگر حالات جوں کے توں رہے اور دنیا تماشہ دیکھتی رہی تو یاد رکھیں کہ پھر خطے میں کشیدگی کی فضا بڑھتی جائے گی جس کے خطرناک نتائج باقی دنیا کو بھی بھگتنا ہوں گے۔امید واثق ہے کہ سلامتی کونسل اور دوسری عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیئے ضرور عملی اقدامات اٹھائیں گی۔باقی پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کے غیر متزلزل،بے مثال عزم اور آزادی کے ولولہ انگیز جذبے کو سلام پیش کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ وہ مشکل کی ہر گھڑی میں ہمیشہ ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
