دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستان 27 اکتوبر کو کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ نیدر لینڈ ز کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ڈیم اسکوائر پر اسی سلسلے میں ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے علاوہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کی خلاف دنیا بھر کی طرح نیدر لینڈز میں بھی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر مظلوم کشمیریوں کے حق اور بھارتی فوج کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارت کے کشمیر پر ناجائز قبضے کے خلاف نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے ظلم و ستم کو رکوانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بھارتی فوج اور حکومت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مظاہرے سے چودھری رضوان، راجہ اسد، ڈاکٹر محمد کامران، جاوید اقبال، حافظ سجاد برکاتی، لیاقت شفیق، حاجی عبدالمجید اور دیگر نے خطاب کیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے مظاہرے کے شرکا کا کہنا تھا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسلہ ہے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کا کردار بہت مایوس کن ہے۔
مظاہرے کے اختتام پر کشمیریوں کی آزادی کے لئے د عا کی گئی۔
مظاہرے کے شرکا نے اس عظم کا اظہار کیا کہ مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھی جائے گی اور جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں مل جاتی دنیا کے تمام فورمز پر کشمیر کے لئے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
