پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقو ق کے کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریاں،مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کی ریاستی دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے کا واضح ثبوت ہے۔
منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خرم پرویز کے دفاتر اور رہائش گاہ پر بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے قابل مذمت اور بلا جواز تلاشیوں کی بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے بھی مذمت کی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دنیا اس بات سے واقف ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے لیے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ستمبر 2020 میں ہندوستان میں اپنے تمام آپریشنز بند کرنا پڑے ۔اس کے علاوہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر ان کی آزادانہ رپورٹنگ کی وجہ سے انتقامی کارروائی میں اس کے بینک اکاؤنٹس کو بھی منجمد کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مشینری، آزاد این جی اوز اور عالمی میڈیا نے 5 اگست 2019 سے کشمیری انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف بھارتی قابض افواج کی طرف سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں، ہراساں کرنے اور انتقامی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنا فرض ادا کرے۔
