مقام شکر ہے کی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسوں کواب قائد اعظم کا دو قومی نظریہ سمجھ آیا ہے اور اب وہ بھی پاکستان اور یہاں پر رہنے والے شہریوں کی زندگیوں پر رشک کر رہے ہیں۔ کشمیر کا تنازع گزشتہ 72 سال سے حل طلب ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک پاکستان اور بھارت کی ہر قیادت نے اس ایشو کو حل کرنے کی کوشش کی مگر بات مذاکرات سے آگے نہ بڑ ھ سکی۔ گزشتہ برس بھارتی سرکار نے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کر کے جنوبی ایشیاء کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی۔ مودی سرکار نے بھارتی آئین میں حاصل کشمیر کو خصوصی حیثیت کے حامل آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی۔ ان دونوں آرٹیکل کے تحت کشمیری عوام اور انکی سر زمین کو خاص حیثیت حاصل تھی۔ کشمیری عوام بھارتی عوام کے طور پر نہیں جانے جاتے تھے جبکہ انکی املاک کو بھی تحفظ حاصل تھا۔ بھارتی بیمار قیادت نے اپنی بیمار ذہنیت کا ایک بار پھر کھل کر اظہار کیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ بھارتی قیادت نہ صرف مسائل کو حل کرنے کی سکت نہیں رکھتی بلکہ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور خطے کو جوہری جنگ کی آگ میں دکھیلنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں دنیا ایک ایسے وقت کو دیکھے گی جب اربوں افراد قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے، اوزون کی سطح کو زبردست نقصان پہنچے گا
گزشتہ دنوں بھارتی وزیر دفاع نے گیڈر بھبکی دی کہ ”بھارت آنے والے وقت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر سکتا ہے ”۔ بلاشبہ یہ ایسا بیان ہے جسکو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جن میں جنگ کی صورت میں ‘ریسپانس ٹائم ‘ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک فوجی اصطلاح ہے جسکو جنگی زبان میں ردعمل دینے کے لیے لیا جانے والے وقت سے تشبہیہ دی جاتی ہے۔ یہ ایسی خطرناک صورتحال ہے کہ بھارت کے کسی بھی جوہری حملے کی صورت میں پاکستان کے پاس سوچنے اور ردعمل کا بہت کم وقت میسر ہو گا جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ سرد جنگ کے دوران امریکا اور سویت یونین کے درمیان فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ‘ریسپانس ٹائم ‘ بھی بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے سوچنے اور ردعمل دینے میں خاطر خواہ وقت میسر ہوتا تھا مگر پاکستان اور بھارت کے کیس میں ایسا نہیں ہے۔ دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت میں کشمیر کی وجہ سے چوتھی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو یہ دنیا کی پہلی جوہری جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس تمام حقیقت کے با وجود بھارتی وزیر دفاع کا یہ احمقانہ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ بھارتی قیادت کس قدر جنگی جنون رکھتی ہے۔ اس بیان پر اب تک عالمی طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جس سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ عالمی قیادت صرف سلامتی کونسل کے بند کمروں کے اجلاس بلا سکتی ہے مگر اس بات سے نظر چرا رہی ہے کہ بھارتی حملہ کس قدر بھیانک نتائج دے گا۔ عجیب بات ہے کہ بھارتی قیادت اپنی عوام کو کامیابی سے بے وقوف بنا رہی ہے کیونکہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ بھارت ہی لیکر گیا تھا جو اب معاملہ کو خراب سے خراب تر کر رہا ہے جو اسکی اپنی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے جہاں آسام، ناگالینڈ، ہریانہ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ درجنوں ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں،۔ناگا لینڈ کی ریاست نے تو بھارتی یوم آزادی پر اپنا الگ پرچم اور ترانہ بھی جاری کر دیا ہے۔ بھارتی قیادت کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ سویت یونین اپنی طاقت ور فوج کے باوجود عوام کا اعتماد کھو دینے کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ اسوقت ایک بڑی تعداد میں کالمز، آرٹیکل اور بیانات جا ری ہو رہے ہیں مگر ہمیں بحیثیت قوم اب یہ فیصلہ کر نا ہو گا کہ کشمیر تنازع کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ ماضی میں پاکستان کی جانب سے کئی بار اس بابت پیشکش کی گئی جن میں مشرف فارمولہ کافی عرصہ زیر بحث رہا۔ میرا یہ تجزیہ ہے کہ موجودہ اقدامات کے بعد بھارتی قیادت اس تنازع کو اس نہج پر لے گئی ہے جہاں سے واپس آنا بہت مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ اس صورت حال میں ضرورت اب اس امر کی ہے کہ کشمیر سے دونوں ممالک اپنی اپنی افواج واپس بلائیں اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کشمیر میں فری اینڈ فئیر انتخابات کرائے جائیں۔ انتخابات میں کشمیریوں کو بھارت، پاکستان یا آزاد کشمیر میں سے ایک منتخب کرنے کا آپشن دیا جائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ میں یہ تجویز رکھی جائے ورنہ اس بات کی بھی یقین دہانی کرا دی جائے کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائے گا
