Input your search keywords and press Enter.

دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد کشمیر 30 برس پیچھے چلا گیا، غلام نبی آزاد

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ پانچ چھ ماہ کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونگے لیکن ہمیں اس دفعہ کوئی چوک نہیں کرنی ہے جسطرح ہم نے پچھلی دفعہ کی۔
اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے سینئر لیڈر اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلٰی غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بہانے کرکے جموں و کشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے صوبہ جموں میں 13 ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے قریب ساڑھے سات ہزار یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد بند ہوگئے ہیں جو ابھی بھی ہند ہی ہیں۔ غلام نبی آزاد سینئر لیڈر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز راجوری میں پارٹی ورکروں کو خطاب کرنے کے دوران کیا۔ وہ صوبہ جموں کے سرحدی علاقوں کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے جموں صوبے میں قریب 13 ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے ساڑھے سات ہزار کارخانے یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد ہی بند ہوگئے جو ابھی بھی بند ہی ہیں اور کشمیر میں تمام کارخانے بند پڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ اگست 2019ء سے یعنی گزشتہ لگ بھگ ڈھائی برسوں سے جموں و کشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ مختلف بہانے بنا کر جموں و کشمیر کو خراب اور غریب کر دیا گیا۔

غلام نبی آزاد نے کہا کہ مجھ سے کوئی بات چھپی نہیں ہے میں نے لداخ سے پونچھ تک لوگوں کے حالات دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ پانچ چھ ماہ کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے لیکن ہمیں اس دفعہ کوئی چوک نہیں کرنی ہے جس طرح ہم نے پچھلی دفعہ کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کی ہے لہذا اب لوگ کسی بھی جماعت کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ مذہب کے نام پر نہیں بلکہ ترقی کے نام پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ قابل ذکر ہے کہ غلام نبی آزاد اپنے اس چار روزہ دورے کے دوران 2 اور 3 دسمبر کو ضلع راجوری میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے جبکہ 4 دسمبر کو وہ ضلع رام بن میں ایک عوامی سے خطاب کرنے والے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے