مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں گزشتہ روز سری نگر میں مزید2 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے نوجوانوں کو شہر کے علاقے رنگریٹ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں بھارت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے‘ انہوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو دوران حراست شہیدکیا گیا۔ فوج نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے۔ قابض حکام نے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل سمیت بھارت کے مجرمانہ ریکارڈ پر اس کے خلاف اقوام متحدہ سے اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا۔ سری نگر کے علاقے زیون میں ایک حملے میں بھارتی پولیس کے کم سے کم 8اہلکار زخمی ہو گئے جن میں سے 4کی حالت تشویشناک ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے انڈین ریزرو پولیس کی9 ویں بٹالین کی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کی۔ لداخ خطے کے لوگوں نے اگست 2019ء میں بھارتی آئین کی دفعہ370اور35A کی منسوخی کے بعد مودی حکومت کی طرف سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کے خلاف گزشتہ روز مکمل ہڑتال کی۔
مقبوضہ کشمیر‘ ریاستی دہشت گردی میں مزید 2 نوجوان شہید
