Input your search keywords and press Enter.

علامہّ اقبال ؒ اور مقدمہ کشمیر (2 )

علامہ نے اسلام کے احیا کی بات کی اور اس کو فکری مواد فراہم کیا جو ہندوستانی مسلمانوں میں جذبہ اور جرت پیداکر سکے اور یہی وہ حرارت تھی جو نظریہ پاکستان کی اساس بنی اور پاکستان کے نظریاتی سر حدوں کے محافظوں کو یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے اس طرح جو عناصر اس نظریے کے بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ریاست پاکستان کی سالمیت پرقاری ضرب لگاتے ہیں ۔ اقبال نے کہا کہ اسلام کی احیا کی بات کرو جو ہندوستانی مسلمانوں میں جذبہ اور جرات پیدا کر سکیں ۔ یہ اسلامی فکر ہی ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں میں نیا ولولہ نازہ بخش سکتا ہے ۔ 1937 سے 1947 تک مسلمان کی فکری کاوش نے رنگ لایا ۔ مسلمانوں کے دلوں میں نیا جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا ۔ وحدت فکر نئے انداز اور سوچ کے ساتھ پیش کرنا علامہ اقبال کا کارنامہ ہے جس سے ہندوں کی شکم میں ایک عظیم ریاست کی تشکیل ہوئی جو پاکستان کہلائی ۔قائد اعظم نے علامہ اقبال کے عظیم کردار کو خود بھی نہ صرف تسلیم کیا بلکہ تحسین بھی پیش کیا ۔انہوں نے 21 اپریل 1938 کو فلسطین کے حوالہ سے منقدہ کانفرنس میں تقریب کے دوران برملا فرمایا ۔ 

1940میں اقبال ڈے پر قائد اعظم نے فرمایا،اگر مجھے یہ پیشکش کی جائے کہ آپ کو سارا ہندوستان دیا جائے اور دوسری پیشکش اقبال کا کلام ہو تو میں بلا جھجک کہوں گا۔ اقبال کا کلام ،یہ تھا پاکستان کے بانی کی نظر میں علامہ اقبال کا مقام، اہل کشمیر کی ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیری پنڈت نہرو بھارت کا بانی ٹھہرا اور’’سپرو‘‘ پنڈت حکم الامت نے پاکستان کا خاکہ کھینچا ۔ مگر خود کشمیریوں کی گردن سے غلای کا طوق اتر نہ سکا ۔خاک کشمیر نے عظیم لیڈر پیدا کیے ۔ فیض احمد فیض ، محمد دین فوق، شورش کشمیری اور مولانا انور شاہ کشمیری جیسے عظیم لیڈر۔ انہوں نے آزادی کی آبیاری کی مگر یہ لوگ اور ایک کشمیری پنڈت شیخ عبداللہ کو راہ راست پر نہ رکھ سکے ۔جو نہرو کی سیاسی چال میں پھنس گیا تھا ۔ علامہ اقبال کو مہاراجہ کشمیر نے وزارت تعلیم کے قلمدان کی پیشکش کی مگر انہوں نے

یہ وزارت یہ کہ کر ٹھکرا دی کہ ڈوگرہ اپنے ظلم و جبر چھپانے کے لیے کشمیری نژاد مسلمان کو وزارت دے کر ظلم و جبر پہ پرد ہ ڈالنا چاہتا ہے ۔ علامہ اقبال ڈوگرہ دور کے مظالم سے آشناتھے ۔اسی لیے وہ کشمیری لیڈر شپ کی قیادت بشمول شیخ عبداللہ حوصلہ افزائی کرتے تھے تا کہ کشمیری ڈوگرہ ظلم کے خلاف متحد رہیں ۔ آپ جون 1924 میں پہلی دفعہ کشمیر تشریف لائے اور نشاط باغ میں ٹھہرے ۔ یہیں انہوں نے ساقی نامہ لکھا اور کشمیریوں کی رہنمائی کی اور فرمایا ۔

آہ یہ قوم نحیب و چرب دست و تر دماغ

ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر

علامہ نے بدنام زمانہ بینامہ امرت سر پر لکھا

قومے فروقتندچہ ارزاں فروقتند

اورکہا مے تواں ایراں و ہندوستان خرید

بادشاہی راز کس نتواں خرید

یعنی سودہ بازی سے ملک خریدے جا سکتے ہیں لیکن بادشاہی نہیں۔ یہی مسلمہ ،حقیقت ہے کہ نو لاکھ فوجی جغرافیائی قبضہ ہندو انتہا پسند مودی کے دور میں برقرار رکھ سکتی ہے لیکن وہ کشمیریوں پر حکمرانی نہیں کر سکتی اور اس بات کی تصدیق 1989 سے کشمیریوں نے اپنے سرخ اور گرم لہو سے کی اور یہ اب بھی جاری ہے ۔

افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں: سیکرٹری جنرل او آئی سی
علامہ اقبال کے کلام میں ایسا ولولہ ، جذبہ اور انقلاب تھاکہ عبدالغفار والینٹر نے 1934 میں جب یہ شعر پڑھا ۔جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

ڈوگرہ انتظامیہ نے یہ شعر پڑھنے پر انکو ڈیڑھ سال قید اور 500 روپے جرمانہ کیا ۔مسلمانوں کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر معتصب ہندو دانش وروں نے بھی کلام اقبال کو علم و ادب فلسفہ ، وحدت اور فکر میں اعلیٰ مقام دیا ۔گھنشام سیٹھی کے مطابق فکر اقبال جہد مسلسل حیات و حرکت کا عظیم منبع ہے جو کسی بھی قوم کو خاک سے اٹھا کر ثریا تک پہنچا سکتا ہے ۔ کلام اقبال میں فکری وحدت ہے۔ اور یہ حرارت مردہ کو زندہ کر سکتی ہے ۔ اس طرح بادشاہوں کے درو دیوار نہ صرف ہلانے ،بلکہ مسمار کرنے کی قوت رکھتا ہے۔یہ کلام بلا شعبہ الہامی تاثیر رکھتا ہے جو انسان کو وجود سے نکال کرموجود میں لاتا ہے۔ اور خودی کا ایسا قوت بخشتا ہے کہ انسان میں حیات نو بیدار ہو جاتی ہے ۔ کلام اقبال انسان کو اپنے زہن کی لاغری سے نجات کا جوھر ہے ۔ خودی اور خوداری کا یہ سلیقہ انسان کے روح اور قلب کو جھنجھوڑ دیتا ہے ۔ جدو جہد آزادی کے عظیم قائد سید علی گیلانی علامہ اقبال کے شیدائی تھے جن کی ہر تقریر کی ابتدا اور اختتام کلام اقبال سے ہوتی تھی ۔ شہید اشرف صحرائی ، شہید شیخ عبدالعزیز ، شہید برہان الدین ، شہید اشفاق مجید اور شہید عبدالحمید شیخ اور جملہ قائدین فکر اقبال سے منور تھے علامہ اقبال نے فر مایا ۔

جس خاک کے ضمیر میں ہو آتش چنار

ممکن نہیں سرد ہو وہ خاک ار جمند

انسٹیچیوٹ آف ملٹی ٹریک ڈائیلاگ ڈیویلپمنٹ اور ڈپلومیٹک سٹڈیز نے پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں علامہ اقبال اور مقدمہ کشمیر کے حوالہ سے کانفرنس کا انعقاد کیا ۔ پرنسپل ڈاکٹر اکرام نے کی مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس جناب منظور گیلانی اور اعزازی مہمان سابق سیکرٹری اکرم سہیل نے کی ۔فکر اقبال کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ۔کانفرنس میں پروفیسر امجد بٹ ، پروفیسر قیوم قریشی اور پروفیسر سعید شاہ نے بھی مکالہ پیش کیا ۔ اور نئی نسل کو علامہ کے فکر کے مختلف گوشوں سے روشناس کیا ۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم نے خودی اور خودشناسی کو علامہ کے فلسفے کا مغز کہا ۔ ملت اسلامیہ کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے فکر اقبال سے بڑی کوئی قوت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ملت اسلامیہ کا مورچہ ہے اور اہل کشمیر کا نظریاتی تشخص انتہائی اہمیت رکھتا ہے ، جہد مسلسل ہر محاز پر ضروری ہے ۔ کیونکہ علامہ نے کہا عصا نہ ہو تو بیکار ہے کلیمی ۔آزاد ی کے خظے کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کی عوام کے جدوجہد کے ہر پہلو فکری ،عسکری ،یاسی ،سفارتی میں بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور قائد وہی ہوتا ہے جو اپنی آنے والی نسل کے لیے کوئی مسلہ نہ چھوڑیں ۔ ڈائریکٹر انسٹوٹ نے فکر اقبال کو جملہ مسائل کا حل کہا جو جدید سائنس کی اساس ہے کہ جو قومیں تدبر اور تحقیق سے پیچھے رہیں اور کسی مسلے کا حل نہ دیں کریں اور مسائل کا عملی حل نہ دیں وہ ڈگری یافتہ تو ہیں لیکن پڑھے لکھے نہیں۔ یہ ڈگری یافتہ لوگ ہیں ۔وہ بقول اقبال کافر اور زندیق ہیں یہ سخت زبان علامہ ہی استعمال کر سکتا ہے علامہ نے مسلمانوں کو بر وقت آذان دی تھی خاص کر ڈگری یافتہ لوگوں کو جو کم سے کم زبان سمجھتے ہیں کہ وہ تحقیق پر توجہ دیں اور تحقیق کے زریعے ہی کسی مسئلے کے باریک بینیوں کو مختلف پہلوں سے سمجھ کر مسلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔یہ سائنٹیفک طریقہ ہے جسے ہمارے تعلیمی ادارے کم ہی اہمیت دیتے ہیں اور معلم اپنے آپ کو زمہ داری لینے سے کتراتے ہیں ۔ حالانکہ پیچیدہ مسائل کا حل دانشوروں کا Domain ہے ۔( جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے