عالمی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (انسپاڈ) کے صدر اور ممتاز کشمیری دانشور ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پرامن حل اور کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کے لئے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ اس کے قانونی معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کشمیری اپنی تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ اور خود انحصاری کی بنیاد پر چلا رہے ہیں جس کے لئے انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہمدرد وکیل اور بڑا بھائی ہے ۔ وہ یہاں انٹرنیشنل لا ئر فورم فار جسٹس اینڈ پیس کے چیئرمین اور ممتاز آئینی ما ہر چوہدری محمد محفوظ ایڈووکیٹ اور پاکستان سوشل ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کے سیکر ٹری جنرل پروفیسر چوہدری محمد بشیر کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ۔
ڈاکٹر طاہر تبسم نے کہا کہ کشمیر کی تحریک ہمہ جہت پہلو رکھتی ہے اس کے آئینی و قانونی پہلو بے حد اہمیت کے حامل ہیں ہمیں اس کا علم ہونا ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے کشمیریوں کو اپنے حق آزادی کے حصول کے لئے عالمی عدالت انصاف اور عالمی قانونی اداروں کا جلد دروازہ کھٹکانا پڑے جس پر مکمل ہوم ورک کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے لئے کشمیر کے دونوں اطراف اور بیرون ممالک کے کشمیری ماہرین قانون پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہو گی، جو مسئلے کے تمام پہلووں کو دیکھ کر سمری تیار کریں۔ چوہدری محمد محفوظ ایڈووکیٹ نے انسپاڈ کے صدر کو اپنی نئی کتاب “دی کشمیر ڈسپیوٹ اے لیگل وے فارورڈ “ بھی پیش کی جس
