مسلمانان بر صغیر کے با کردار ،پر عزم ،جمہوریت پسند ،امانت داری سے مزین سیاست کے آمین و پیامر اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد جناح ؒ کا آج 146واں یوم پیدائش عقیدت و احترام اور ملی جو ش و جذبہ کے ساتھ منا یا جا رہا ہے ۔آج جہاں ہم قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کو بحیثیت بانی پاکستان خراج عقیدت پیش کر تے ہیں وہاں ہم قائد کی کشمیر پا لیسی پر ان کے جاندارانہ مو قف کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔3جون 1947ء کے منصوبہ آزادی ہند کے مطابق یہ بات واضح تھی کہ جنت نظیر وادی کشمیر پاکستان کاحصہ بنے گی لیکن جب کشمیر یوں کو حق خود ارادیت کا مو قع نہ دیا گیا تو کشمیر یوں نے قیام پا کستان سے 26روز قبل 19جو لا ئی 1947کو الحاق پا کستان کی قرار داد منظور کی بعد میں 24اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم کی قیادت میں لا ٹھیوں ،کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کے ذریعے ڈوگرہ فوج سے آزا دکردہ علاقے آزا د کشمیر میں آزاد حکومت کا قیام عمل میں لا یا گیا ۔پا کستان کے ابتدائی مسائل و مشکلات میں مسئلہ کشمیر کی حساسیت ،اہمیت اور سنگین صورت حال سے قائد اعظم آگاہ تھے انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ کے طور پر لیکر اس کے مستقل حل کے لیے مربوط پا لسی واضح کی ۔اکتوبر 1947ء میں قائد اعظم نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے لارڈ مائونٹ بیٹن اورپنڈٹجو اہر لال نہرو کولا ہو ر آنے کی دعوت دی دونوں نے دعوت قبول کی مگر نہرو بیماری کے بہانے نہیں آیا ملاقات میں جو ساڑھے تین گھنٹے پر مشتمل تھی ماوئنٹ بیٹن کو قائد اعظم نے باور کر وایا کہ کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ پا کستان کے لیے کسی صورت قابل قبول نہ ہو گا مسئلہ کشمیر کا حل پا کستان اور ہندوستان کی مخلصانہ کو ششوں سے نکل سکتا ہے مگرنہرو 2نو مبر1947ء بجائے قائد اعظم کی تجویر پر غور کر تا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو رائے شماری سے حل کرنے کی قرار داد منظورکی دونوں ممالک نے اتفاق کیا مگر پھر کشمیر اور کشمیری مکار ہندو بنیے کے جعلی آنسو کا شکار ہو گیا اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور مکار بھارتی قیادت کے وعدوں کے با وجود کشمیر یوں کا حق خودارادیت آج تک سوالیہ نشان کی صورت میں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مو جود ہے ۔بھارت نے اپنی مکارانہ حکمت عملی کے تحت شیخ عبداللہ کو کشمیر یوں کا لیڈر بنا کر اقوام متحدہ میں بھیجا سردار محمد ابراہیم نے ایک پر ہجوم پر یس کا نفرنس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی کشمیر پالیسی اور کشمیر کے بارے میں ان کے جاندار موقف کی روشنی میں کہا ’’مسئلہ کشمیر پا کستان اور بھارت کے درمیان کو ئی سر حدی تنازعہ نہیں 84471مربع میل پر مشتمل
الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری پرحکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے
ایک سیاسی اکائی ہے اس کی سیاسی وحدت کی بحالی اور کشمیر ی عوام کے پیدائشی بنیادی حق خود ارادیت کے حصول کا مسئلہ ہے کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اور میں آزاد کشمیر کی عبوری حکومت کا سربراہ اور کشمیر یوں کا نمائندہ ہوں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں کشمیر کے تین دورے کیے 1929ء کا دورہ ذاتی نو عیت کا تھا 1936میں مجا ہد منزل سری نگر میں عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر خطاب فر مایا آخری مرتبہ 1944میں کشمیر آئے اجلاسوں میں شیخ عبداللہ نے ون نیشن تھیوری کی بھر پور وکالت کرتے ہو ئے قائد اعظم کو با ور کرانے کی ناکام کو شش کی کہ نیشنل کانفرنس ہی ایسی جماعت ہے جو اس تھیوری پر عملاً کام کر رہی ہے ۔لیکن قائد اعظم شیخ عبداللہ سے قائل نہ ہو ئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک مخصوص طبقہ کی سوچ ہے کشمیری عوام کی نہیں قائداعظم نے سری نگر میں مسلم سٹوڈنٹس یو نین کے نمائندوں اور مسلم کا نفرنس کے راہنمائوں سے خطاب کرتے ہو ئے فر ما یا ہمارا خدا ایک ،ہما را رسول ؐ ایک ،قرآن ایک ضروری ہے کہ ہم ایک آواز اور ایک جماعت ہوں ۔قائد نے خطاب میں فر ما یا جب میں اس جلسے پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے خوشی اور یقین ہو تا ہے کہ مسلمان جاگ اٹھے ہیں اور مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے جمع ہیں دورہ کشمیر کے دوران بقول ڈاکٹر ریاض علی شاہ جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے فر ما یا :۔
Kashmir is the Jugular vein of pakistan and no nation or country woud tolerate, its jugular vein remain under the sword of enemy.
قائد اعظم کشمیر اور کشمیر یو ں سے اتنی محبت تھی کہ وہ بستر مرگ پر بھی شہ رگ کے لیے پریشان تھے ۔
1948میں چوہدری غلام عباس رہا ہو کر پا کستان آئے تو قائد اعظم نے خود انکا پر تپاک استقبال کر کے کشمیر یو ں کے سر فخر سے بلند کر دیے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں چوہدری صاحب کو مدعو کیا جا تا ۔قائد اعظم نے اپنی قوم کی قیادت کے لیے جن دو اشخاص کو اپنا جا نشین نا مزد کیا ان میں ایک نواب بہادر یار جنگ اور دوسرے چوہدری غلام عباس تھے قائد نے فر ما یا خو ش قسمت ہے کشمیری قوم جس کو چوہدری غلام عباس جیسا رہنما میسر آیا۔
پاک بحریہ کے لیے چین میں تیار جہاز کی لانچنگ
ہم کشمیری اور پا کستانی قائد اعظم کی شخصیت اورعظمت کو سیلوٹ اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطر اپنی صحت ،مال اور جان تک قربان کر دیا ۔
