Input your search keywords and press Enter.

بے قصور افراد کیخلاف تشدد قابل مذمت ہے، پروفیسر سیف الدین سوز

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر نے کہا کہ انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنیکے علاوہ کشمیر میں مذاکرات شروع کرنا چاہیئے تاکہ تشدد کا ماحول ختم ہوجائے۔
اسلام ٹائمز۔ بھارت کے سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی، کانگریس، کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ اور دوسری کئی جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے مذاکرات کا راستہ کھولیں تاکہ کشمیر کی سیاسی گھٹن ختم ہوجائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بے قصور اور غیر مسلح افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی خاص طور تشدد قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری سماج کی روایات میں کسی قسم کا تشدد جائز نہیں ہے۔

پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ کشمیر کے لوگ تشدد کو مسترد کرتے ہیں خاص طور پر لوگ ایسے تشدد کی کارروائی کو رد کرتے ہیں، جو بے قصور اور بے ہتھیار لوگوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنے کے علاوہ کشمیر میں مذاکرات شروع کرنا چاہیئے تاکہ تشدد کا ماحول ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں یعنی این سی، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی، کانگریس، سی پی آئی ایم اور دوسری کئی جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کر کے مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہیئے تاکہ کشمیر میں سیاسی گھٹن بھی ختم ہوجائے اور تشدد بھی رک جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے