آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت دْنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے یوم حق ِ خود ارادیت منایا،اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر بالآخر آزاد ہو کر رہے گا، کشمیریوں کی قربانیاں اور شہدا کا خون ضرور رنگ لائے گا۔بھارت میں تمام تر پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے پورے جوش و خروش سے یہ دن منایا۔ کنٹرول لائن کے دونوں طرف مظاہرے اور اجتماعات ہوئے جن میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ اہل کشمیر بھی سکون کا سانس لے سکیں، ان کی طویل جدوجہد منطقی انجام کو پہنچے اور وہ آزاد فضاؤں میں زندگی گزاریں۔صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے پیغامات میں واضح کیا کہ پاکستان حق ِ خودِ ارادیت کے لئے اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔بھارت نے اس موقع پر بھی سرچ آپریشن کے دوران پلوامہ میں تین کشمیریوں کو شہید کر دیا۔یاد رہے کہ آج سے73سال پہلے اقوام متحدہ نے5جنورری1949ء کو قرارداد منظور کی تھی کہ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ قرارداد منظور تو ہو گئی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ کشمیری دنیا بھر میں 5جنوری کو یوم حق ِ خود ارادیت منا کر اقوام متحدہ کو اس کی13اگست1948ء اور 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قرادادوں کی یاد دلاتے ہیں۔ قرارداد میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کشمیر کا پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ غیر جانبدرانہ ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا اوریہ ریفرنڈم کشمیر میں جنگ بندی کے بعد ہو گا۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔کمیشن کے ممبران ممالک میں ارجنٹائن، بیلجیئم، امریکہ، کولمبیا اور چیکو سلواکیہ شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت خود کشمیر کا مسئلہ لے کر اقوام متحدہ میں گیا تھا،اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے علی الاعلان کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیں گے، لیکن یہ سب ہوائی باتیں ثابت ہوئیں، حقیقت تو یہ ہے۔
انصاف کی متلاشی خاتون عدالت کے باہر جان کی بازی ہارگئی
اہل کشمیر آج بھی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، مودی سرکار روز بروز ان پر زمین تنگ کرتی جا رہی ہے، نت نئے طریقے سے کشمیریوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادیں بھارت نے ہوا میں اڑا دیں۔ وہ کشمیرکواپنااٹوٹ انگ قرار دیتا ہے لیکن کشمیریوں کے حقوق کو پامال کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔اور تو اور مودی سرکار نے تو اگست 2019ء میں کشمیر کی قانونی حیثیت بھی ختم کر دی، لیکن ان سب کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، ان کا آج بھی ایک ہی مقصد ہے، ایک ہی آواز ہے۔ وہ اپنے حق خود ارادیت کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں، بلکہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ان کے مطالبے میں شدت آتی جا رہی ہے۔
اسلام آباد سے مری جانے والے تمام راستے بند
پاکستان نے ہمیشہ اہل ِ کشمیر کے موقف کی حمایت کی ہے، ہر حکمران نے چاہے وہ میاں نواز شریف ہوں یا عمران خان عالمی سطح پر کشمیر کے حق میں آواز اٹھائی ہے، عالمی برادری کو جھنجوڑنے کی پوری کوشش کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آج بھی کشمیر ایک مسئلہ ہے، اسے متنازع علاقہ تو مانا جاتا ہے لیکن اس کے حل کے لئے سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ اقوام متحدہ کے تو قیام کا مقصد ہی بین الاقوامی امن قائم رکھنا ہے، اور اس مقصد کے لئے تنازعات کو پیدا ہونے سے روکنا اور تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں حالات بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک اپنی رپورٹ کے مطابق، یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس نے (یو ڈی ایچ آر) نے 80 سے زیادہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور اعلانات، علاقائی انسانی حقوق کے کنونشنوں، داخلی انسانی حقوق کے بلوں اور آئینی دفعات کی منظوری میں بنیادی یا رہنما کردار ادا کیا، یعنی دنیا بھر میں اقوام متحدہ متحرک نظر آتی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ کشمیر کے معاملے میں اس کی دال نہیں گل رہی؟
بھارت تو سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دارہے لیکن اس کا رویہ انتہائی غیر جمہوری ہے۔ بھارت کی مثال تو بد مست ہاتھی کی سی ہے جو ہر چیز اپنے پاؤں تلے روندنے پر تلا ہواہے، وہ تو اپنی ہی طاقت کے نشے میں چور ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ وہاں بسنے والی تمام اقلیتوں کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ عالمی برادری بھی اس معاملے میں زیادہ پر جوش نظر نہیں آتی،سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ثالثی کا نعرہ تو لگایا تھالیکن نریندر مودی اسے کسی خاطر میں نہیں لائے اور پھر ٹرمپ نے بھی خاموشی اختیار کر لی یا شائد مصلحت کی چادر اوڑھ لی، صدر جو بائیڈن کو بھی اقتدار سنبھالے سال سے زیادہ کا عرصہ گزار چکا ہے لیکن معاملات جوں کے توں ہیں۔ایسے میں اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ کشمیر میں بھارت کی جارحانہ کارروائیوں کا راستہ روکے، بھارت کو مجبور کر ے کہ وہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمدیقینی بنائے۔عالمی میڈیا بھی اس بات کا نوٹس لے،سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کیا جائے، ایک بات تو طے ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن و امان قائم کرنے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
