بعض کشمیری سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام پاکستان کو 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کے مترادف بناسکتا ہے یا اس سے ریاست کے مستقبل کے بارے میں اقوام متحدہ کی
(گزشتہ سے پیوستہ)
بعض کشمیری سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام پاکستان کو 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کے مترادف بناسکتا ہے یا اس سے ریاست کے مستقبل کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے یاکشمیر کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف سے پسپائی ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے عوام کے ساتھ دھوکہ دہی سمجھا جائے گا۔
جی بی کا عارضی طور پر انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے لئے حکومت آزادکشمیر کا اپریل 1949ء میں حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ’’کراچی ایگریمنٹ‘‘ ہوا ہے۔ اس لئے آزاد جموں و کشمیر کے پاس جی بی کے مستقبل پر اپنے رائے کا حق ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ بھارت ہمیشہ حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ عوامی جذبات کو مشتعل کرنے یا عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو مسخ کرنے کی مہم جوئی کرتا ہے۔دہلی کے شرپسند یہاں اور بیرون ملک کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ کشمیری بھی ریاست کی سا لمیت چاہتے ہیں۔تقسیم کشمیر کے وہ ہمیشہ خلاف رہے۔
اگر کشمیر کا ’’سٹیٹس کو‘‘برقرار رہتا ہے یا جنگ بندی لکیر کو بین الاقوامی سرحد بنانے کے لئے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس خونی لکیر کے آر پار بسنے والے لاکھوں لوگ جو سات دہائیوں سے غربت اور پسماندگی ، جہالت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔ ان کی ترقی اور خوشحالی صرف متحدہ کشمیر سے وابستہ ہے۔جو علاقے صدیوں پہلے شہری اور ترقی یافتہ علاقے تھے، وہ اس جنگ بندی لائن کی وجہ سے غربت اور افلاس میں پس کر رہ گئے ہیں۔ اس لئے کشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا یا جنگ بندی لکیر کو انٹرنیشنل بارڈر بنانے کے خطوط پر غور کرنا انسانیت کے خلاف کسی سنگین جرم سے زیادہ سنگین ہو گا۔ اگر سی پیک کا کوئی ایشو ہے یا بھارت کے ساتھ سفارتی معرکہ آرائی ہے تو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی جانب پیش رفت ضروری ہو گی۔ مایوسی کے بجائے امید دلانا چاہیئے۔ اس کے لئے کوششیں بھی لازم ہیں۔ روایت کے بجائے غیر روایتی سفارتکاری پر توجہ دی جائے تو معاملات کچھ آسان ہو سکتے ہیں۔ قربانیاں دینے والے اگر پر عزم ہیں، وہ مایوس نہیں، وہ بر سر پیکار ہیں تو آزادی سے کم انہیں کوئی حل کیسے قبول ہو سکتا ہے۔اگر وقتی طور پر مصلحت پسندی سے وہ کام لیں تو بھی نئی نسلیں بے وفائی اور پسپائی کا الزام کس پر عائد کریں گی۔نسل بچانے کی بات کرنے والا ایک حلقہ بھی ہے ، مگر آزادی سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ یہ دلیل کہ جی بی کے لوگ ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں اور اس عمل سے وہ آگے بڑھیں گے، اس میںکیا خوبی ہے۔ جب حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا اور جی بی کا انتظام سنبھالا تو اپریل 1949ء سے، آزاد کشمیر اور پاکستان حکومتوں نے انہیں پیچھے کیوں چھوڑ دیا؟ آزادکشمیر اور پاکستان’’ یو این سی آئی پی‘‘ قراردادوں کے تحت دی گئی ذمہ داری کے طور پر ایک اچھی حکمرانی کی فراہمی کے پابند ہیں۔ اگر پاکستان ، آزاد کشمیر اور جی بی میں حکومتوں کی نگرانی نہ کرتا،تو اقوام متحدہ کا کمیشن ان دونوں انتظامیہ کی نگرانی کرتا۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کی نگرانی کے تحت یہ علاقے گذشتہ سات دہائیوں میں سوئٹزرلینڈ کی حیثیت سے ترقی کر سکتے تھے۔مگر دنیا کا جھکائو بھارت کی جانب ہے۔اس لئے پاکستان کی بے دخلی یک طرفہ سرینڈر کی مانند ہو گی۔ پاکستان پر سوال اٹھے گا کہ وہ آزاد کشمیر اور جی بی میں ’یو این سی آئی پی‘ کی قراردادوں کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہا یا کامیاب ہوا۔ اگر لوگ ترقی کے سفر میں پیچھے رہے اور اس کا اعتراف بھی کیا گیا تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ جواز دلچسپ ہے۔
بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر پر ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور جی بی پر بھی دعویٰ ہے۔وہ اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ کیا پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے۔اس کے لئے آئینی ماہرین کی مشاورت سے آئین پاکستان میں ترمیم یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی پارلیمنٹ جیسی قرارداد کوئی جواز فراہم کر سکتی ہے۔حکومت آزاد کشمیرنے کن حالات میں اپریل 1949ء میں حکومت پاکستان کے ساتھ عارضی طور پر جی بی کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کا معاہدہ کیا۔ معاہدہ کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے پاس جی بی سے متعلق سوال کرنے کا ایک ڈی جور کا حق ہے۔ آزادکشمیر ہائی کورٹ نے جی بی کی آزادکشمیر کی انتظامیہ کے ما تحت منتقلی کا بھی فیصلہ سنایا ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف آزادکشمیر نے اس منتقلی کے خلاف ریلیف دی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بڑی واضح ہیں کہ جن کے تحت گلگت بلتستان ، ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ گلگت کی لیزاہم حوالہ ہے۔ گلگت کی لیز کامعاہدہ جموں کشمیر کے مہاراجہ اور برطانوی ولی عہد کے مابین 26 مارچ 1935ء کو ہوا ،جس کے تحت وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا نے’’وزارت گلگت ‘‘کوریاست جموں و کشمیر کی وزارت قرار دیا گیا۔ اسے مہاراجہ جموں و کشمیر کی عمل داری میں رکھا گیا۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت جب بھی کشمیر میں ریفرنڈم ہوا تو گلگت بلتستان بھی ایک ووٹ بینک ہو گا۔بھارت نے اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لئے بھارتی شہریوں کو جموں کے بعد اب پوری مقبوضہ ریاست میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے۔50لاکھ سے زیادہ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ ریاست کے ڈومیسائل جاری کر دیئے گئے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کسی تیز عالمی دبائو کی آڑ میںپاکستان کو چکمہ دے کر بھارت رائے شماری پر آمادگی ظاہر کرنے پر غور کر رہا ہے۔اگر پاکستان نے جنگ بندی لائن کے آر پار 70سال سے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی موجودگی کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز یا فراموش کر دیا تو بھارت ان مبصرین کو یہاں سے واپس بلانے کے لئے مہم چلا سکتا ہے ، بھارت کو یہ موقع بھی میسر آ رہا ہے کیوں کہ وہ جنوری 2021ء سے یو این سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے غیر مستقل ممبر ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو تمام حقوق دیئے جائیں۔ مگرجی بی کو ریاست جموں و کشمیر سے الگ کرناپاکستان کی سلامتی کے لئے درست نہیں بلکہ یہ سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عجلت میں فیصلہ کرنے سے پہلے سنجیدگی سے مزید غور و خوض ضروری ہو گا۔ پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرائی جائے۔ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کی رائے لی جائے، آزاد کشمیر اسمبلی میں اس پر مباحثہ ہو۔ گلگت بلتستان کے عوام کی رائے کو ترجیح دی جائے جو حقوق سے محروم رہے ہیں۔ کوئی پسند کرے یا نہ کرے ،گلگت بلتستان، ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ اگر جی بی کے عوام کو آزاد کشمیر سے کوئی گلہ شکوہ ہے تو بھی وہ خود اس عالمی تنازعہ سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔ ان کا کردار مستقبل کے تعین میں اہمیت رکھتا ہے۔ جی بی کو آزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ ملے ،کنفیڈریشن طرز پرگلگت اور مظفر آباد کی وحدت قائم ہو،اس کنفیڈریشن کا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوتو نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی کنفیڈریشن
