Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانا آسان نہیں

تحریر۔۔راجہ شہزاد معظم
روحانی پیر و مرشد واصف علی واصف فرماتے ہیں،، جب ایک شخص کسی دوسرے سے دریافت کرتا ہے کہ بھائی تم نے زندگی میں پہلی دفعہ جھوٹ کب بولا؟تو دوسرا جواب دیتا ہے اس دن جب میں نے یہ دعویٰ کیا کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں،،۔ بات ذرا گہری ہے ،لیکن غور وفکر کے بعد دماغ میں سما جاتی ہے کہ پہلا جھوٹ وہی ہوتا ہے جب کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔یہ بات تو تمہید کے طور پر تحریر کر دی۔ اب اصل مو ضوع کی طرف بڑھتے ہیں کہ اگر اللہ جھوٹ نہ بلوائے،اور کشمیر پاکستان کا صوبہ بن جائے تو حالات کیا کروٹ لیں گے؟
فرض کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جاتا ہے تو یہاں کا سماجی،سیاسی،اخلاقی ،دفاعی اور سیاسی سیٹ اپ کیسا ہو گا؟؟ کیا کشمیری اس صوبہ بننے پر راضی ہوں گے یا نہیں؟ اور اگر راضی ہوں گے تو کتنے فی صد لوگ اس کی حمایت کریں گے اور کتنے فی صد لوگ اس کی مخالفت کریں گے؟ کیا آزاد کشمیر کے اندر وہ تمام سہولیات زندگی میسر ہیں کہ اگر اسے صوبہ بنا دیا جائے تو یہ ایک خود مختار یونٹ کی طرح کام کر پائے گا؟ کیا یہاں ریاستی اور غیر ریاستی نعروں کی بازگشت سنائی دے گی؟ کیا حکومت پاکستان اسے دیگر صوبہ ہائے جات کی طرح کی مراعات دے پائے گا؟ کیا آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے سے پہلے بھارت سے کوئی بات چیت کی جائے گی؟ اور وہ بات چیت کس نوعیت کی ہو گی؟کیا کشمیری قیادت سے بھی اس مسئلے پر گفت و شنید کا دور چلے گا؟ اور ان کشمیری زعماءمیں کون کون سے لوگ موجود ہوں گے؟ کیا دفاع کا نظام دیگر صوبوں کی طرح یہاں بھی نافذ العمل ہو گا؟ کیا یہاں گورنر بنے گا؟ گورنر کا تعلق پاکستان کے کسی دوسرے صوبے سے ہو گا یا یہیں سے اس کا انتخاب کیا جائے گا؟ کیا وزیر اعظم کے بجائے وزیر اعلیٰ لے لیں گے؟ کیا وزارت امور کشمیر برقرار رہے گی؟؟ کیالینٹ آفیسران کو اسی صوبے سے تعینات کیا جائے گا یا وہ پاکستان کے کسی اور صوبے سے متعلقہ ہوں گے؟
ان سب سوالوں کے جواب جاننے کے لئے اداریے میں بحث کرنا مطلوب ہے۔ لیکن بیشتر سوال ایسے بھی ہیں جن کا تذکرہ کسی حتمی فیصلے سے پہلے کرنا بے سود ہو گا۔پہلی بات کہ اس صوبے کا سیٹ اپ کس طرح کا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اگر صوبہ بنانا ناگزیر ہو گیا تو پاکستان کو وہ تمام مراعات صوبہ کشمیر کو دینا پڑیں گی ،جو کہ دیگر صوبہ ہائے جات میں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہو گا اور پاکستان کے لئے چیلنج کا باعث ثابت ہو گا۔دوسری بات کشمیریوں کی صدیوں پرانی روایات ہیں۔جب پاکستان اور ہندوستان دنیا کے نقشے پر نہیں تھے کشمیر تب بھی تھا۔ اس بات کا خدشہ پایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کی اکثریت شائد اس صوبے کی مخالفت کرے۔ اگر اکثریت حمایت بھی کرے اور چند لوگ بھی مخالفت کریں تو اس مسئلے کو faceکرنا بھی پاکستان کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔
ایک بات یہاں یہ بھی مد نظر رکھنا پڑے گی کہ مسئلہ کشمیر ایک اختلافی صورت میں اقوام متحدہ کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ بھارت کی مشاورت کے بغیر پاکستان اسے یک دم صوبے کا درجہ نہیں دے پائے گا۔ بھارت سے مشاورت کا مطلب ،،ادھر تم اور ادھر ہم،، کی صورت کے علاوہ کوئی بھی نظر نہیں آ رہا۔بصورت دیگر بھارت حسب سابق اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ساری دنیا میں اس صوبے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
ایک اور اہم بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر پاکستان ،آزاد کشمیر کو صوبے کی حیثیت دیتا ہے تو اس پر آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا رد عمل کیا ہو گا؟ اور کیا پاکستان کشمیری قیادت سے مشاورت کے بعد اسے صوبہ بنائے گا یا کشمیریوں کو cornerکر کہ اس پر اپنی عمل داری قائم کرے گا۔ ایک بات تو عیاں ہے کہ شائد ہی کوئی کشمیری سیاسی جماعت آزاد کشمیر کے صوبہ بننے کی حمایت کرے،بالفرض پاکستان کی ذیلی شاخیں جو یہاں ایک مظبوط سیاسی قوت ہیں،وہ پاکستان کے ساتھ صوبے کے معا ملات پر کمپرو مائز کر بھی دیں تو کیا ریاستی جماعتیں بھی ان کا ساتھ دیں گی؟ اگر ریاستی جماعتیں بھی اس نظریے سے متفق ہو جاتی ہیں تو پھر پاکستان کو کشمیر کے صوبہ بنانے میں زیادہ رکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔ لیکن لگتا نہیں کہ ریاستی جماعتیں اس معاملے پر پاکستان سے متفق ہوں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اگر تقسیم کشمیر کرنا ہی مقصود تھی ،تو پاکستان اور بھارت نے چھ دہائیاں اپنے تعلقات کیوں خراب رکھے؟ اور اس مسئلے پر تین جنگیں کیوں لڑیں۔ جو لوگ آزادیءکشمیر کے لئے اپنی جانیں قربان کر گئے ،کیا اس کے نتیجے میں کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانا مقصود تھا۔
اگر بالفرض ایسا ہو بھی جاتا ہے تو آزاد کشمیر کے اندر وہ تمام ضروریات سرے سے موجود ہی نہیں جن کے بل بوتے پر صوبہ قائم رہ سکے۔ آزاد کشمیر میں ٹورزم۔شاہرات اور صحت کے معاملات اتنے گھمبیر ہیں کہ پہلے پاکستان کو ان کا کوئی حل نکالنا ہو گا پھر وہ کوئی قدم اٹھا سکنے کے قابل ہو گا۔اگر کوئی آدمی جل جائے تو آزاد کشمیر میں ایک بھی برنٹ یونٹ نہیں۔ دل کے مریضوں کے لئے کوئی ہسپتال نہیں۔ اسی طرح کے بے شمار مسائل ہیں جو کہ صوبہ کشمیر کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا صوبہ بن جانے کے بعد کشمیر کونسل ،کشمیر لبریشن سیل اور وزارت امور کشمیر کے محکمہ ہائے جات کو کہاں لے جایا جائے گا۔اور کیا لینٹ آفیسران پاکستان کے ہوں گے یا اس خطے سے چنے جائیں گے۔
المختصر سارے کشمیریوں کی متفقہ خواہش یہ ہے کہ پہلے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کو آزاد کروایا جائے اور اس کے بعد کوئی نئی حکمت عملی وضح کی جائے۔ ورنہ ہزاروں شہداءکی قربانیاں اور گزشتہ کئی دہائیوں کی پاکستان، بھارت دشمنی اور نقصان محض ڈرامہ بن کر رہ جائے گا۔ کشمیر کی مکمل آزادی سے پہلے کسی بھی قسم کا فیصلہ عجلت تصور ہو گا،اور کہتے ہیں کہ ،،جلدی کام شیطان کے،،۔ اس لئے اس نازک معاملے پر پاکستان کو انتہائی پھونک پھونک کر اور دانشمندی سے فیصلہ کرنا پڑے گا۔
اگر یہ کہا جائے تو قطعی نا مناسب نہ ہو گا کہ کشمیر کے مقدمے کی بنیاد پر ہمارا بڑا بھائی پاکستان دنیا میں سفارتکاری کر رہا ہے اور اکثر و بیشتر ہمارے زعماءعالمی فورمز پر کشمیر پر جانبدرانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کو عوام میں پزیرائی بھی ملتی ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا وکیل گزشتہ نصف صدی سے زائد کے لگ بھگ اس مقدمے کو بہتر طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی محکوم و مجبور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے کشمیر کے مقدمے کی نوعیت کو واضح شکل دی جائے اور اس کے بعد چاہے اسے صوبہ بنایا جائے یا الگ انتظامی یونٹ۔ اس بات کا فیصلہ عوام کو استصواب رائے کے ذریعے کرنے دیا جائے۔ اس کے بر عکس اگر کشمیری قوم پر کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو شاید اس کے نتائج اچھے نہ ہوں۔ ان حالات میں ہمارا ابدی دشمن بھارت بھی موقع کی تاک میں ہے اور وہ بھی ہماری کسی بھی غلطی سے فائدہ اٹھانے میں ذرا بھر لا پرواہی نہیں کرے گا۔ اللہ ہمارے بڑے بھائی پاکستان اور ہمارے وطن عزیز کشمیر کا حامی و ناصر ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے