پاکستان میں او آئی سی اجلاس میں کشمیر پر بیان دینے کے بعد چین سے ہندوستان ناراض
اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔
نئی دہلی: اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور چین سمیت کسی بھی تیسرے ملک کا اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا ہے۔
Organisation of Islamic Cooperation کی تشکیل دنیا میں مسلم ممالک کی آواز بلند کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی امن وامان اور خوشحالی کو قائم رکھتے ہوئے مسلم دنیا کے مفاد کی دفاع کرنا ہے۔ 57 رکنی اس باڈی کی وزرائے خارجہ کونسل کا دو روزہ سیشن اسلام آباد میں 22 اور 23 مارچ کو ہوا۔
منگل کے روز افتتاحی سیشن میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی کے اسٹیج سے کشمیر کا راگ الاپا تھا۔ عمران خان (Imran Khan) نے کہا تھا کہ ہم ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں، لیکن کشمیر اور فلسطین کا موضوع حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارا کشمیر پر کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے غیر قانونی طریقے سے کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کردیا، لیکن کچھ نہیں ہوا۔
