’کشمیر فائلز‘نام کی فلم کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کی حالتِ زار بیان کرنے کادعویٰ کیا جارہا ہے اوراس کی تشہیر کے ذریعےمسلمانوںکے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔اسی سلسلے میںجماعت ِ اسلامی کی جانب سے جمعہ کو مراٹھی پترکار سنگھ میںمنعقدہ سمپوزیم بعنوان ’کشمیر فائلز کے پیچھے کا ایجنڈہ ‘ میںاہم شخصیات اورقانونی ماہرین نے اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے سچائی بیان کی اوریہ واضح کیاکہ پنڈتوں کے قتل کی ذمہ داربی جے پی اورآرایس ایس ہے۔ آخر۶؍سالہ واجپئی کے دور اقتدار اور۸؍سالہ مودی حکومت نے پنڈتوںکے آنسو کیوں نہیںپونچھے؟
جسٹس ابھے تھپسےنے کہا کہ ’’فلم کے بارے میں یہ بات کافی ہے کہ جموں کشمیر میں نفرت پہلے سے تھی جسےکشمیر فائلزسے اوربڑھانے کام کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں سے نفرت سنگھ کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ ان کےخمیر میں یہ ہےکہ وہ اکثریت کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہم پر حملہ کیا، مسلمانوں نے ہم پرظلم کیا ۔دراصل یہ جھوٹ پھیلانے کا کام کرتے ہیں ۔ہم کو اس کوچیلنج کرنا چاہئے کہ تم غلط بول رہے اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو آؤ ڈبیٹ کرو ۔‘‘ جسٹس تھپسے نے یہ بھی کہا کہ’’ یہ ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں لیکن کیاہندو راشٹر میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا ؟ میں بحیثیت ہندو یہ جانتا ہوں کہ یہاں مساوات نہیں ہے ۔ عوامی سطح پر ان کو چیلنج کیا جائے،بھلے وہ گفتگو نہ کریں لیکن ہم سب عوام کو تو سمجھا سکیںگے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔‘‘
جسٹس کولسے پاٹل نے کہاکہ ’’ کشمیر فائلز جیسی نفرت پھیلانے والی فلموں کی مدد سے پوری دنیا میں ایک خاص طبقے کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے ۔‘‘انہوںنے آرایس ایس کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’سنگھ کا ایجنڈہ لکھا ہوا ہے کہ یہ حکومت میں رہیں باقی عوام ان کے غلام بن کرزندگی گزاریں۔‘‘ کولسے پاٹل نے یہ بھی کہا کہ ’’ کشمیری پنڈتوں کے قتل کی ذمہ دار بی جے پی اور سنگھ پریوار خود ہے کیوں کہ اس وقت ریاست اور مرکز میں ان کی ہی حکومت تھی ۔ آخر۶؍سالہ واجپئی کے دور اقتدار اور۸؍سالہ مودی حکومت نے پنڈتوںکے آنسو کیوں نہیںپونچھے؟کیوں نہیںان کی خبری گیری کی ؟میں سچ بولتا ہوں ،سچ بولنے کے لئے جوبھی سزاہو،مجھے قبول ہے۔
راجیہ سبھا کے سابق رکن ایڈووکیٹ مجید میمن نے کہا کہ ’’یہ وقت کا تقاضا ہے کہ اس تعلق سے سنجیدگی سے غور کیاجائے ۔پہلے فلمیں معاشرے میںمثبت تبدیلی کا سبب بنتی تھیں لیکن اگر فلمیں کسی برے مقصد سے بنائی جاتی ہیں تو یہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’آپ جب تاریخی فلمیں بناتے ہیں تو یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ جھوٹ کی آمیزش سے بچیں ۔کشمیر فائلز میںسب سےاہم بات یہ ہے کہ یہ فلم حقیقت سے دورہے اوراس میںمبالغے سے کام لیا گیا ہے۔‘‘ ایڈوکیٹ مجید میمن نے دوٹوک انداز میںیہ بھی کہا کہ ’’ کشمیری پنڈتوں پرمظالم کے لئے اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی حکومت ذمہ دار ہے ۔ ہم کسی کے بہکاوے میں نہیں آنے والے ہیںاورنہ ہی تاریخ معلوم کرنے کے لئےایسی کسی کی فلم کی ضرورت ہے ۔‘‘
معروف سماجی خدمت گارٹیسٹا سیتلواد نے حکومت اورفلم ساز کوآئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی ۸۰۰؍سو سے زیادہ کشمیری پنڈت موجود ہیں جس میں۱۴۰؍ خاندان خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیںلیکن کسی حکومت کو نہ تو ان کی فکر ہے اورنہ ان کی بہتری کے لئے صحیح معنوںمیں کچھ کیا جارہا ہے۔‘‘ ٹیسٹا سیتلواد نے یہ سوال قائم کیا کہ ’’ یہ بتایئے کہ کشمیر میں ان کی پسند کے مطابق الیکشن کب ہوا اور کب پنڈتوں اورکشمیریوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے طور ایک صاف شفاف حکومت کا حصہ بنیں۔ یہ سچائی ہےکہ ہماری حکومت نے کشمیر کےتعلق سے کبھی سنجیدگی سے ایماندارانہ اور مخلصانہ کوشش ہی نہیںکی ۔‘‘
انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’یہ فلم ایک پروپیگنڈہ کے سوا کچھ نہیںہے ۔جرمنی میں بھی ایساہی کیاگیا تھا۔ کرناٹک میں حجاب اور دیگر موضوعات کو الیکشن کے پیش نظر ہوا دی جارہی ہے ۔یہی حال کشمیر فائلز کا ہے کہ اس کی مدد سے تشدد کو خوب پھیلایا جائے ۔ ہمارے صحافیوں کو چاہئے کہ وہ وزیراعظم سے سوال کریں کہ آخر وہ کیا چاہتے ہیں؟ حالانکہ ان کا ایجنڈہ یہ بھی نظر آ رہاہے کہ گلی گلی میں اتنی نفرت پھیلا دی جائے کہ ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف تشد پھوٹ پڑے ۔‘‘ ٹیسٹا سیتلوادنےعدلیہ کے حوالے سے کہا کہ’’ آخر عدلیہ موجودہ خوفناک ماحول کا ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتی ہے۔‘‘ڈاکٹرسلیم خان نے کشمیر فائلز کے حوالے سے کہا کہ ۳۷۰؍ ہٹنے سے اگر کشمیر کا نقصان ہوا تو جموں کے ہندوؤں کا بھی نقصان ہوا ہے ۔آخر کس وعدے پر بی جے پی الیکشن لڑے گی۔ کشمیر فائلزدراصل بی جےپی کا سیاسی ایجنڈہ ہے۔ ڈاکٹر اشوک کمار پانڈے ۔ ہردے ناتھ ونچو کو گولی ماردی گئی جبکہ وہ توانسانی حقوق کیلئے لڑرہے ۔دراصل اس فلم کی بنیاد نفرت کوبڑھانا ہے ۔‘‘
کشمیر فائلز نام کی فلم کے تعلق سے منعقدہ سمپوزیم میںٹیسٹا سیتلواد اظہارخیال کرتے ہوئے ۔
