Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں تلک لگانے اور حجاب پہنے والی بچیوں پر مرد ٹیچر کا بہیمانہ تشدد

 جموں و کشمیر میں ایک سرکاری اسکول کے ٹیچر کیخلاف دو بچیوں کو تلک لگانے اور حجاب پہننے پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی۔
واقعہ راجوری کے مقامی گورنمنٹ اسکول میں پیش آیا ، جہاں نثار احمد نامی مرد ٹیچر نے مبینہ طور پر ہندو اور مسلمان طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لینے کے بعد پولیس نے ٹیچر کو حراست میں لے لیا ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بچیوں پر تشدد کی تحقیقات کرینگے۔
ہندو بچی کے والد انگریز سنگھ کا کہنا ہے کہ آج میری اور شکور کی بیٹی کو مارا گیا ہے کل کوئی اور ٹیچر کسی بچی کو تلک لگانے یا حجاب پہننے پر تشدد کا نشانہ بناسکتا ہے، اس لئے واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ دار شخص کو سزاء ملنی چاہیے۔
مزید پڑھیں:ایڈز سے متاثرہ چاچی نے بھتیجے سے جنسی تعلقات قائم کرکے لڑکے کی زندگی داؤ پر لگادی، پھر کیا ہوا ؟

انگریز سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت میں اس وقت حجاب کے حوالے سے تنازعات جاری ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں اس طرح کا فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم کشمیر کو کرناٹک نہیں بننے دینگے جہاں کوئی ہماری بچیوں کو کہے کہ تم حجاب نہیں پہن سکتی یا تلک لگانے پر مذہبی فساد پیدا ہو۔
دوسری بچی کے والد محمد شکور کا کہنا ہے کہ مرد ٹیچر نے بچیوں کو مکے اور لاتوں سے مارا ہے، معصوم بچیوں کو بے رحمی سے مارنے والے ٹیچر کو سزاء ہونی چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے