Input your search keywords and press Enter.

بھارتی مظالم پر آواز اٹھانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق سربراہ پر مقدمہ

زیرتسلط کشمیر میں فوج کشی کی مذمت کرنے پرمودی سرکار کی جانب سے ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ کوآکار پٹیل کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ پلوامہ میں بھارتی فورسزکی ریاستی دہشت گردی میںبھارتی فوج نے 3کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کرکے شہید کیا اورنعشیں بھی قبضے میں لے لیں۔

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر بھارتی فورسز کشمیری عوام کو نہ صرف ہراساں کر رہی ہیں بلکہ گھروں میں گھس کرعزت مآب خواتین کی بے حرمتی بھی کی جارہی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی بھارتی فورسز نے پلوامہ اور قریبی علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند ہے جس کی وجہ سے کشمیری عوام کا بیرونی دنیا سے رابطہ عملاً کٹا ہوا ہے۔ سرچ اپریشن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کرنا بھارتی فورسز کا مشغلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے 3کشمیری نوجوانوں کو پلوامہ میں فائرنگ کرکے شہید کیا اور انکی نعشیں بھی قبضے میں لے لیں۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی انتہاء یہ ہے کہ اپنے مظالم چھپانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں حالات کا جائزہ لینے والے کسی مبصر کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا حتیٰ کہ یواین مبصرین کو بھی روک رکھا ہے۔ گزشتہ روز زیرتسلط کشمیر میں فوج کشی کی مذمت کرنے پر مودی سرکار نے ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ آکار پٹیل کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ بھارت ہر اس اقدام اور ذرائع کیخلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں اسکے مظالم کو بے نقاب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسکی یہ شہ زوریاں اور ہٹ دھرمیاں اسی لئے پنپ رہی ہیں کہ عالمی طاقتوں اور اداروں کی طرف سے اسکے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی جس کی وجہ سے اسکے حوصلے بلند ہو رہے ہیں اور وہ کسی بھی دبائو کو خاطر میں نہیں لا رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے