Input your search keywords and press Enter.

سینئر صحافی مدثر علی کاحرکت قلب بند ہونے سے انتقال

سری نگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چرار شریف سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی مدثر علی جمعے کی علی الصبح حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 37 برس تھی۔ موصوف انگریزی روزنامہ ‘گریٹر کشمیر’ کے ساتھ زائد از ایک دہائی سے وابستہ تھے اور اس کے علاوہ نیوز پورٹل ‘دی وائر’ کے لئے بھی لکھتے تھے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مدثر علی نے جمعے کی علی الصبح سینے میں شدید درد کی شکایت کی جس پر انہیں سب ضلع ہسپتال چرار شریف منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی ہسپتال سے مدثر علی کو شری مہارجہ ہری سنگھ ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ مدثر علی کا نماز جنازہ چرار شریف میں واقع حضرت شیخ العالم شیخ نور الدین نورانی (رح) کے آستان عالیہ کے صحن میں پڑھا گیا جس میں سخت سردی کے باوجود لوگوں کے جم غفیر نے شرکت کی۔ انہیں اپنے آبائی مقبرہ گلشن آباد چرار شریف میں اشک بار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر موصوف کے اقارب و احباب کے علاوہ ان کے صحافی ساتھیوں کو زار و قطار روتے ہوئے دیکھا گیا۔

دریں اثنا مدثر علی کی اچانک موت پر وادی کی صحافتی برادری میں غم و اندوہ کی لہر دوڈ گئی ہے۔ مقامی صحافیوں نے کہا کہ مدثر علی ایک با صلاحیت صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ تمام تر انسانی خصائل و صفات کے پیکر بھی تھے۔ انہوں نے کہا وہ نوجوان صحافیوں کی رہنمائی میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ وادی کی جملہ صحافتی انجمنوں نے مدثر علی کی اچانک موت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت اور مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے ماہ اکتوبر میں ہی شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی جاوید احمد کی بھی دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی تھی۔ جاوید احمد انگریزی روزنامہ ‘رائزنگ کشمیر’ کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ گھر سے دفتر کی طرف رواں دواں تھے کہ راستے میں ہی حرکت قلب بند ہونے سے موت راہی ملک عدم ہوگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے