Input your search keywords and press Enter.

ٹارگٹ کلنگ سے انتظامیہ کے کھو کھلے دعوئے بے نقاب:عمر عبداللہ

جموں وکشمیر کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں جاری : عمر عبداللہ
حسین محتشم
پونچھ // سابق وزیر اعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کشمیر میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کو سنگین اور تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ مذکورہ واقعات نے حکومت کے ’پر امن حالات‘کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے ۔این سی سنیئر لیڈر نے سرحدی ضلع پونچھ کے حویلی اسمبلی حلقہ میں ایک ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں بی جے پی سے وابستہ افراد کے علاوہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ 5 اگست 2019 کو دفعہ 35A اور 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات میں کوئی بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’شاید صرف بی جے پی والے ہی ایسا کوئی دعویٰ کر سکتے ہیں‘‘ لیکن جموں و کشمیر کا کوئی اور عام آدمی مذکورہ نوعیت کے دعوئے نہیں کرسکتا ۔انہوں نے وادی کشمیر میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ہلاکتیں عام حالات کے دعووں کو واضح طور پر بے نقاب کرتی ہیں۔انہوں نے کہا،’’کل ایک شخص کو گھر کے اندر صرف اسلئے گولی مار دی گئی کہ وہ پولیس اہلکار تھا جبکہ ایک اور شخص جو کشمیری پنڈت تھا کو دن میں تحصیل دفتر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا‘‘۔ عمر نے کہا کہ یہ سب چیزیں اور واقعات حکومت کی طرف سے وادی کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعووں کو واضح طور پر بے نقاب کرتی ہیں۔آرٹیکل 35A اور 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شعبے کی ترقی کے حکومت کے دعووں پر تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک کے کسی بھی صنعت کار یا سرمایہ کار نے جموں و کشمیر میں قدم نہیں رکھا جبکہ عربیوں کے چند دورے ،ان کی تصویریں بنانا اور ان کو اخبارات و دیگر سائٹس پر شائع کیا گیا ہے اس کے علاوہ زمینی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ذات پات، مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن لوگوں کو اس کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔بی جے پی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی پی اے جی ڈی پر جموں و کشمیر میں سست ترقی کا الزام لگاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ این سی پچھلے سات سالوں سے اقتدار میں نہیں ہے اور پی ڈی پی پچھلے چار سالوں سے اور بی جے پی دہلی اور جموںکشمیر دونوں میں حکومت چلا رہی ہے اور اس کے باوجود وہ اپوزیشن پر الزامات لگا رہے ہیں۔موصوف نے کہاکہ ’’حقیقت یہ ہے کہ این سی کی طرف سے برسوں پہلے شروع کئے گئے تمام ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں اور بحالی کے منتظر ہیں۔این سی کے دیگر قائدین نے بھی مختلف عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور حکومت پر فرنٹ پر ناکامی اور نوجوانوں کو غیر یقینی کی حالت میں چھوڑنے کا الزام لگایا۔اس دوران عمر عبداللہ کے ہمراہ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، چیف ترجمان تنویر صادق، جموں کے صوبائی صدر رتن لال گپتا، جموں کے صوبائی صدر (یوتھ) اعجاز جان، جاوید اے رانا اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے