این سی کے صدر نے کہا کہ ہم اپنی ریاست کی شناخت، انفرادیت، وحدت اور صدیوں کا بھائی چارہ ہر قیمت پر قائم و دائم رکھنے کیلئے پُرعزم ہیں۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبدللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ این سی روز اول سے ہی جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر اعتماد رکھتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی جماعت نے ناانصافی اور غلامی کے خلاف تحریک شروع کی تھی تاکہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اپنے بنیادی حقوق حاصل ہوسکیں اور وہ راحت اور آرام کی زندگی بسر کرسکیں۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے ماگام بڈگام میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم اپنی ریاست کی شناخت، انفرادیت، وحدت اور صدیوں کا بھائی چارہ ہر قیمت پر قائم و دائم رکھنے کیلئے پُرعزم ہیں۔
مہنگائی اور ریکارڈ توڑ بے روزگاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب تک ریاست کا خصوصی درجہ واپس کیا جائے اور جو حقوق اور مراعات ہمیں دفعہ 370 اور 35 اے کے تحت آئین ہند نے دیئے تھے انہیں واپس کرنے سے ہی ریاست میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی آسکتی ہے اور ان حقوق کی حصولی کیلئے ہم قانونی اور آئینی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تئیں موجودہ سخت گیر پالیسی ترک کرکے جموں و کشمیر کو اپنا درجہ واپس دیا جائے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاستی عوام اس وقت گوناگون مشکلات سے دوچار ہیں، ریاست پریشان کُن معاشی صورتحال سے گزر رہی ہے، سیاسی خلفشار اور انتشار بدستور جاری ہے، عوامی نمائندہ سرکار کی عدم موجودگی میں لوگ ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں بیرونی ریاست سے افسران کو لاکر یہاں لافیتہ شاہی کا نظام مسلط کیا گیا ہے، جو نہ صرف یہاں کے لوگوں کے مسائل و مشکلات کا ازالہ کرنے میں غیر سنجیدہ ہیں بلکہ یہاں کے آئینی اور جمہوری اداروں کو تہس نہس کررہے ہیں۔
