Input your search keywords and press Enter.

صرف دلی طور پر کشمیریوں سے ہمدردی کافی نہیں ، اس ہمدردی کا اظہار بھی ہونا چاہیے۔ڈاکٹر احمد میر کشمیری

رپورٹ: سید فراز نقوی حریّت رہنما مولوی عباس انصاری مرحوم کی یاد میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا تعزیتی اجلاس ایران کے شہر قم میں منعقد ہوا۔ *ناظمِ اجلاس محترم منظوم ولایتی تھے۔

انہوں نے اجلاس کے افتتاحی کلمات میں تحریکِ آزادی کشمیر اور حرّیت رہنما مولوی عباس انصاری کی جدوجہد کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی۔

فورم کے مسئول محترم نذر حافی نے اس امر کی طرف خاص طور پر شرکا کی توجہ مبذول کروائی کہ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا ایک اہم مقصد جہانِ اسلام کے فراموش شُدہ موضوعات خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری کو زندہ رکھنا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فاضل تجزیہ کار جناب بشیر دولتی نے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا عباس انصاری مرحوم و مغفور کی زندگی کے بعض اہم پہلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مرحوم کو پاکستان و کشمیر کی مذہبی شخصیات کے لیے ایک اسوہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم نے وحدتِ اسلامی، حریت و حقیقی آزادی کے حصول کی جدوجہد میں ایک عالم کے طور پر بہترین عملی نمونہ پیش کیا ، وہ تا دمِ مرگ ، استقامت ، بہادری اور جہاد کی علامت کے طور پر پہچانے جاتے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت و بلتستان میں دینی تبلیغ کے حوالے سے کشمیر کے علما و مبلغین کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے حضرت امام خمینی ؒ کے بھی ایک کشمیری مبلغ ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر جہانِ اسلام کا اٹوٹ انگ ہے اور اہلیانِ کشمیر کی مظلومیت کو اجاگر کرنا یہ ہم سب کا دینی فریضہ ہے۔

اس اہم نشست کے مہمان تجزیہ کار محترم ڈاکٹر احمد میر کشمیری تھے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات پر انتہائی اہم و سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیری مسلمانوں کے تعلیمی، تربیتی ،فرهنگی حتی زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات ہی مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں تاکہ آزادی کی راہ میں قربانیاں دینے والے مظلوم کشمیری، ظالم حکمرانوں کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیں اور غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مظلوم کشمیریوں کی عملی طور پر حمایت کی ضرورت ہے۔اس وقت کشمیری مسلمان جو 70 سال سے زیادہ عرصہ اپنی جنگ خود لڑتا رہا ہے آج بے بسی کا شکار ہے اور اپنی ہی مادر وطن پر قیدیوں کی طرح زندگی کے دن گزار رہا ہے۔ یہ ہر زندہ ضمیر انسان اور بالخصوص مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ جہاں بھی ہیں ، وہیں سے کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کے لئے قلم ، زبان اور جدید ذرائع ابلاغ سے اپنا کردار ادا کریں۔ صرف دلی طور پر کشمیریوں سے ہمدردی کافی نہیں ، اس ہمدردی کا اظہار بھی ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے