اجلاس میں اس عہد کو دہرایا گیا کہ امامیہ فیڈریشن کشمیر کا قیام کسی فرد، جماعت، ادارہ، گروہ یا انجمن کے خلاف نہیں ہے بلکہ فیڈریشن اپنے دستور کے موقف کی پیروی میں قوم کے ہر فرد کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر کاربند رہے گی۔*
رپورٹ: جاوید عباس رضوی
شیعیانِ مقبوضہ کشمیر کی جملہ سطحوں پر پسماندگی اور اس قوم کو سرکاری سطح پر نظرانداز کئے جانے کے محرکات کا سدباب کرنے اور قوموں کی صفوں میں ملت شیعیان کشمیر کو ایک باوقار مقام عطا کرنے کے ضمن میں فیصلہ کن جدوجہد کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے امامیہ فیڈریشن کشمیر نے قوم کے دردمند اور ذی شعور افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتی و گروہی حد بندیوں سے بالاتر ہوکر فیڈریشن کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔ تاریخی حسینی ہال ناؤ پورہ میں امامیہ فیڈریشن کی جانب سے بلائے گئے ریاست گیر اجتماع جس میں فیڈریشن کے آئین اساسی، ایڈہاک ایڈوائزری کونسل اور ایڈہاک ایکزیکیٹو کونسل کو متعارف کیا گیا اور جس میں ہر ضلع سے آئے ہوئے مندوبین جن میں دانشور، وکلاء، طالبعلم اور قوم کے دردمند شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس عہد کو دہرایا گیا کہ امامیہ فیڈریشن کشمیر کا قیام کسی فرد، جماعت، ادارہ، گروہ یا انجمن کے خلاف نہیں ہے بلکہ فیڈریشن اپنے دستور کے موقف کی پیروی میں قوم کے ہر فرد کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر کاربند رہے گی اور تمام جماعتوں اور اداروں کے ساتھ احترام آدمیت کے اصولوں کو نظر میں رکھ کر شیعیان کشمیر کی آرزووں اور امنگوں اس کے مسائل کو حل کرنے اور صدیوں سے اس قوم پر ہو رہے استحصال کے خاتمے کے لئے کام کرے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ لاکھوں کی تعداد میں کشمیر میں رہ رہے اس قوم کے حب الوطنی اور مختلف ادوار میں پیش آئے سیاسی حالات اور واقعات کے ضمن میں دی گئی قربانیوں اور اتحاد ملت کی شمع کو فروزاں رکھنے کی اس قوم کی دردمندانہ اور فراخ دلانہ کوششوں سے چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جب اس قوم کے حقوق کی بات آتی ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر میں وقتاً فوقتاً برسر اقتدار آئی حکومتوں اور غیر حکومتی اداروں نے کھبی بھی اس قوم کے درد کو محسوس نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی شیعیان کشمیر کی متعدد بستیاں سڑکوں پانی، بجلی، بہتر طبعی سہولیات اور تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔ پیشہ وارانہ کالجوں میں اس قوم کے طالب علموں کے لئے کوٹا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سرکاری محکموں میں نوکریوں کا تناسب آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بہت کم ہے اس قوم کے بہت سے تاریخی آستانہ جات ویرانی کی حالت میں ہیں اور محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت شعاری کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ اس قوم کی مدتوں سے جاری مانگ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا، اگرچہ حکومت نے اس ضمن میں ابتدائی کارروائی کا آغاز کیا ہے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، اس ضمن میں امامیہ فیڈریشن کا موقف بہت واضح ہے کہ شیعہ وقف بورڈ کا قیام اور اس کی تولیت کا مسئلہ فقہ امامیہ کے دائرے میں رہ کر ہی حل ہونا چاہیئے اور ہم تمام مذہبی جماعتوں اداروں اور صاحبان اوقاف کے ساتھ کھلے دل و دماغ سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ معین کردہ اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر امامیہ فیڈریشن کشمیر کے قیام پر بلا آخر منتج ہوئی اور حالات کی نزاکت اور ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قوم کے صاحب رائے، دردمند اور حساس افراد نے اپنا قومی اور ملی فریضہ جان کر اس نمائندہ قومی سیاسی جماعت کی بنیاد ڈالی اور انشاء اللہ اس ضمن میں فیڈریشن کے خدوخال کو قوم کے سامنے تفصیل سے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکاء نے اپنی آراء پیش کی اور فیڈریشن کو اپنا بھرپور تعاون دینے کا عہد دہرایا۔ اس موقع پر فیڈریشن کے ایڈہاک جنرل کونسل کی تشکیل ہوئی اور آگے چل کر آئین اساسی کی باضابطہ منظوری اور لاگو ہونے کے بعد مستقل بنیادوں پر فیڈریشن کے تین ستونی جماعتی نظام (Three Tyre System) کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اجلاس میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ شیعیان کشمیر کی جائز مانگوں کو پوار کرنے کے لئے مثبت اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے اور ساتھ ہی کشمیر کی تمام دینی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ جماعتی اور گروہی حدبندیوں سے بالاتر ہو کر ملت شیعہ کشمیر کی فلاح و بہبود اور اس قوم پر ہو رہے استحصال کے خاتمے کے لئے امامیہ فیڈریشن کشمیر کی جدو جہد میں اپنا بھرپور رول ادا کرے۔
