محبوبہ مفتی نے راجوری دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں سکیورٹی فورسز کی مزید تعیناتی اور سابق فوجیوں کو اسلحہ فراہم کرانے کے حکومتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مسائل کا حل نہیں نکالا جا سکتا ہے۔
پیرمدثر احمد
جموں کشمیر: راجوری دہشت گردانہ حملے کے بعد سرکار کی جانب سے ولیج ڈیفینس کمیٹی ارکان اور سابق فوجیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلے کو لے کر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے راجوری دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں سکیورٹی فورسز کی مزید تعیناتی اور سابق فوجیوں کو اسلحہ فراہم کرانے کے حکومتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مسائل کا حل نہیں نکالا جا سکتا ہے۔
اننت ناگ کے بجبہاڑہ میں اپنے والد مرحوم مفتی محمد سعید کے مقبرے پر حاضری کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا کہ فوج نے ماضی میں جموں کشمیر میں جمہوری حکومت کی تعیناتی میں کلیدی رول ادا کیا ہے، لیکن اب یہاں فوج کی ضرورت نہیں ہے اور بی جے پی محض اپنے مفادات کی خاطر فوج کا استعمال کر رہی ہے جسے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بی جے پی جموں کشمیر میں صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام ہوئی ہےاور یہاں کے لوگوں کے بیچ فرقہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ فوج اور سیکورٹی فورسز کی بدولت ماضی میں جموں کشمیر میں ایک جمہوری نظام قایم کرانے میں کافی مدد حاصل ہوئی ہے اور سیکورٹی فورسز نے اپنا کام انجام دیا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اب جموں کشمیر میں مسائل سے نمٹنے کےلئے ایک منظم پالیسی کی ضرورت ہے نہ کہ فوجیوں اور سیکورٹی افواج کی مزید تعیناتی کی۔ انہوں نے کہا کہ راجوری حملے کی آڑ میں لوگوں کو اسلحہ فراہم کرنا اور سیکورٹی افواج کی مزید تعیناتی سے بی جے پی اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے ، جس سے دو بھایوں یعنی ہندو اور مسلم فرقوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرح کے اقدام سے جموں کشمیر میں فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی اپنے نجی سیاسی مفادات کی خاطر سیکورٹی فورسز اور فوجیوں کے کاندھوں کا استعمال کر کے اپنی بندوق چلانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر فوجی کاروایاں مسائل کا حل ہوتی تو چین کے ساتھ اس وقت مزاکرات کی بات نہیں ہوتی۔ جبکہ چین نے ہندوستان کے لگ بھگ 20 فوجیوں کو شہید کر کے ہزاروں مربع کلومیٹر کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اب چین کے ساتھ مزاکرات اور صلح مشورے کی بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملیٹری کاروائیاں اسطرح کے مسائل کا حل نہیں ہے۔
