کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے اور جموں کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوگئے ہیں۔
پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ متنازعہ ایشوز کو حل کرنے کے لیے پھر سے تیسرے فریق کی ثالثی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستانی علاقے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے کردار اور تیسرے فریق کی ثالثی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ہندوستان پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کے لیے کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کا ہمیشہ مخالف رہا ہے۔ ہندوستان کا یہ بھی ماننا ہے کہ جموں-کشمیر کا پورا علاقہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان نے اس کے ایک حصے پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تیسرے ملک کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کا حق نہیں ہے۔
بلوچ نے صحافیوں سے کہا، پاکستان-ہندوستان تعلقات اور امریکہ سمیت کسی تیسرے فریق کی جانب سے اس میں ثالث کا رول ادا کرنے کے بارے میں پاکستان ہمیشہ یہ مانتا ہے کہ ہم کشمیر سمیت ہر تنازعات پر عالمی برادری کے رول کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
