Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم جاری،جعلی مقابلے میں 2 شہید

مقبوضہ کشمیر میں 26جنوری کو نا م نہاد بھارتی یوم جمہوریہ منانے کے پیش نظر مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا گیا جبکہ قابض انتظامیہ نے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں سرکاری ملازمین کی شرکت کو لازمی قرار دے دیا ۔

ادھر بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں اور اس نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں دو کشمیری نوجوانوں کوجعلی مقابلے میں شہید کر دیا۔ ارباز میر اور شاہد شیخ نامی نوجوانوں کو منگل کے روز تلاشی کارروائی کے دوران گاڑی سے اتارکر گولیاں مار ی گئیں۔ بھارتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ شہید نوجوان لشکر طیبہ کے عسکریت پسند تھے ۔ اس واقعہ کے بعد جنوبی اور وسطی کشمیر میں صورت حال کشیدہ ہوگئی ۔ دوسری طرف قابض انتظامیہ نے تمام سرکاری اداروں کے سربراہوں کے نام مراسلے میں حکم دیا ہے کہ بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریبات میں سرکاری ملازمین کی شرکت لازمی ہوگی ۔ بھارتی اخبار کے مطابق لائن آف کنٹرول کے ساتھ فوجیوں کے گشت اور تعیناتی کو یوم جمہوریہ سے پہلے بڑھا دیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوان عامر ماگرے کی قبر کشائی کی درخواست مسترد کر دی ۔ عامر ماگرے کے والد نے قبر کشائی کیلئے نظر ثانی اپیل دائر کی تھی ۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلٰی اورنیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی شناخت،وحدت اور ہم آہنگی کو قائم رکھنا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ بھارت کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے درپے ہے اور اس کی مذموم کوششوں میں تیزی آئی ۔ سرینگر میں وفود سے گفتگو کرتے فاروق عبداللہ نے کہاکہ مودی حکومت کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے کشمیریوں کو متحد ہونا ہو گا ۔ دریں اثنا کشمیریوں کو ان کی اراضی سے بے دخل کرنے کیخلاف راجوری اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔مظاہرین نے کہا کہ مودی حکومت کی تازہ کارروائی جموں و کشمیر کوایک نوآبادی بنانے کا ایک اورا قدام ہے جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں غلام محمد سوپوری ، یاسمین راجہ، فریدہ بہن جی اور دیگرنے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مسلمانوں اور دلتوں کی نسل کشی کرکے سازش کے تحت ان کی جائیدادیں اور اراضی چھین رہی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے