Input your search keywords and press Enter.

انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس اور ایک سوال

انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس اور ایک سوال
تحریر : منظور حیدری
4 فروری 2023 کا دن تھا۔ یہ ایران کے علمی و تاریخی شہر قم المقدس کی بات ہے۔اس شہر میں صرف گھومنے پھرنے سے ہی عقل کے دریچے کھلنے لگتے ہیں۔ اس کے درودیوار میں معنویت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے، یہاں مدرسہ فیضہ میں آج بھی انقلاب کے چراغ روشن ہیں، شب و روز مدرسہ امام خمینی ؒ میں علم و عقل کے دیپ چل رہے ہیں اورمدرسہ حجتیہ پوری آب و تاب کے ساتھ جہانِ علم وعمل میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوشاں ہے۔ میں مدرسہ حجتیہ میں ہی داخل ہوا۔ یہاں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ کانفرنس ہال کا نام شہید مطہری ؒ تھا۔ ہم شہید مطہری ہال پہنچے تو کلام الہی سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا ۔ تلاوت کلام الہی کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن جناب شیخ احمد حسین نوری صاحب نے خطاب فرمایا۔ انکا کہنا تھا کہ اس وقت جن اقوام کا اقوام متحدہ میں ہولڈ ہے اگر ان میں تھوڑی سی بھی انسانیت ہوتی تو کشمیر کے مظلومین کے لیے آواز بلند کرتے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرتے۔
ان کے بعد استاد حوزہ علمیہ قم و دفتر اسلامی تبلیغات کے رکن آقائ مصطفیٰ ملک محمدی کا کہنا تھا کہ ” دین اسلام دین صلح ہے ۔ آج دنیا کے کسی کونے میں بھی ظلم ہوتا ہے تو ایران بغیر کسی رنگ و نسل و دین و مذہب کے مظلومین کی حمایت کرتا ہے اور ان کی آواز بنتا ہے ۔”
کانفرنس میں جہاں پاکستان کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان کی اہم شخصیات موجود تھیں وہیں ایران سمیت دیگر ممالک کے وفود بھی دکھائی دئیے۔ یہ سب یہاں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے جمع ہوئے تھے۔ قم المقدس چونکہ علم و اجتہاد کا مرکز ہے لہذایہاں ہونے والی گفتگو انتہائی منفرد اور فکر انگیز تھی۔
شرکا نے اس کانفرنس کے انعقادپر جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کی فرض شناسی کو سراہا وہیں حضرت امام خمینی اور رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی بصیرت اور دوراندیشی نیز مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ان کی محبت اور ہمدردی کا بھی اعتراف کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ کانفرنس کا انعقاد سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم و صدائے کشمیر فورم کی طرف سے کیا گیا تھا۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل جناب نذر حافی صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسا کام کریں جو آپکی آئندہ نسلوں کے کام آئے تو اس کی تین صورتیں ہیں:
۱۔ ایسا لکھیں جو پڑھنے کے قابل ہو
٢۔ ایسا کام کریں جو لکھنے کے قابل ہو
۳۔ ایسی گفتگو کریں جو عمل کرنے کے قابل ہو
انہوں نے کہا کہ سپورٹ کشمیر میگزین میں ہم نے انہی تین نکات کو اکٹھا کیاہے۔ یاد رہے کہ اسی تقریب میں سپورٹ کشمیر میگزین کی تقریب رونمائی بھی کی گئی۔ان کے بعد ” مہمان خصوصی براعظم افریقا کے نامور دانشمند ڈاکٹر عبد اللہ بیلم صاحب” نے اقوام متحدہ کے بارے میں انتہائی محققانہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہزاروں لوگ شہید ،ہزاروں بےگھر ، اور ہزاروں یتیم ہیں جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ فقط مذمت کے الفاظ دہرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فقط مذمت سے دکھوں اور غموں مدوا نہیں ہو سکتا۔ اقوام متحدہ نے فقط مذمت کے الفاظ اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت او_آئی_سی بھی امریکہ و دیگر چند ممالک کا کٹھ پتلی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ جن مقاصد کے لیے اس کو تشکیل دیا گیا ہے ان مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات کرے نہ کہ چند ممالک کی لونڈی بن کر رہے ۔
انکا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کو انکا حق ملنا چاہیے کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا کسی کے ساتھ ملحق ہونا چاہتے ہیں ۔
اقوام متحدہ یوکرین کے خود ساختہ مسئلے پہ اتنا واویلا تو کر رہا ہے حالانکہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں جبکہ دوسری طرف کشمیر کے اتنے بڑے ایشو پر کہ جو پچھلی کئ دہائیوں سے چل رہا ہے O-I-C کو سانپ سونکھ گیا ہے ۔ اور اسی طرح اسلامی چینلز کا بھی فریضہ ہے کہ وہ مظلوموں کی آواز بنیں اور دنیا تک حقائق پہنچائے ۔
اپنی تقریر کے آخری حصے میں انکا کہنا تھا کہ انسانیت کے ناطے ہم سب پر فرض ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کی جائے اور صحیح راستے کے انتخاب میں انکی رہنمائی کی جائے ۔مسئلہ کشمیر مسئلہ انسانیت ہے یہ فقط مسلمانوں اور کشمیریوں کے ساتھ مختص نہیں۔
کانفرنس کے آخر میں سپورٹ کشمیر میگزین کی رونمائی کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری امور خارجہ حجت السلام والمسلمین علامہ شفقت حسین شیرازی نے کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے اس کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیر انتظام چلنے والے آنلائن سیشنز اور دیگر پروگرامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹ کشمیر میگزین نے ایک بڑے خلا کو پُر کیا ہے۔
اس کانفرنس کے حوالے سے دو ملاقاتیں آپ کو یاد رہنی چاہیے۔ ایک ملاقات اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے برادر منظوم ولایتی کی کسی عزیز سے ہوئی تھی، انہوں نے اس پر تفصیلی کالم لکھا ہے۔ آپ اس کالم کے آخر میں دئیے گئے لنک پر کلک کر کے وہ کالم پڑھ سکتے ہیں۔ دوسری ملاقات اس کانفرنس کے بعد ہماری بھی ایک عزیز سے ہوئی۔ ہم نے اُن سے کانفرنس کے بارے میں تاثرات پوچھے تو انہوں نے کہا کہ بعض افراد ہم سے پوچھتے ہیں کیا اس کانفرنس سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا؟
میں نے ان سے مختصراًیہی کہا کہ کیا آپ نے حضرت علیؑ کا وہ مشہور و معروف جملہ نہیں سنا کہ جس میں آپ ؑ نے فرمایا ہے "ہمیشہ ظالم کے مخالف اور مظلوم کے حامی بنو” ۔میں نے کہا میرے عزیز ایمان لانے کے بعد جس طرح نماز و روزہ ہم پر واجب ہے اسی طرح مظلوم کی حمایت بھی ہم پر لازم ہے۔ ورنہ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ کیا امام حسینؑ کی عزاداری کرنےسے کربلا کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو پھر ہم کیا جواب دیں گے۔ کربلا کی نسل درنسل عزاداری کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ہمراہ رہو۔
میں نے کہا کہ آج میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے اس کانفرنس میں شریک ہو کر اپنے مصطفوی ؐ، علوی ؐ، حسینی ؑاور پیروکارِ خمینیؒ و پیروکارِ قاسم سلیمانی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہ جواب سُننا تھاکہ وہ دوست بھی خوشی سے کِھل اٹھا۔ یہ کانفرنسز اس لئے ضروری ہیں کہ یہ مُردہ انسانوں کو زندہ کرتی ہیں اور جس نے ایک انسان کو زندہ کیا ، گویا اُس نے پورے عالم بشریت کو زندہ کیا۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ زندگی صرف بدن کی نہیں ہوتی، بلکہ اگر ہم انسان ہیں تو پھر زندگی ضمیر اور عقل و شعور کی بھی ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے