اسلامی جمہوریہ ایران کی چوالیسویں سالگرہ کے موقع پرشہدائے انقلابِ اسلامی اور شہید مقبول بٹ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد۔ شہدا کیلئے فاتحہ خوانی اور اُن کے پیغام کو قلم سے عام کرنے کی اہمیت پر تاکید
تفصیلات کے مطابق سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیر اہتمام ۱۱ فروری ۲۰۲۳ کو مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مجلسِ مذاکرہ کا موضوع ” اقوام کی بصیرت افزائی میں قلم کا کردار” تھا۔ مجلسِ مذاکرہ کا افتتاحیہ محترم عارف بلتستانی نے پڑھا۔ انہوں نے اپنے مقالے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کا خون صاحبانِ قلم کی گردنوں پر قرض ہے۔ شہدا کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ قلم کے ذریعے اُن کے پیغام کو نسل در نسل زندہ رکھنا ہے۔دیگر مقالہ خوان حضرات نے بھی قلم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شہید مقبول بٹ، شہدا کشمیر اور انقلابِ اسلامی ایران کے شہداکی قربانیوں، فداکاریوں اور ایثار پر روشنی ڈالی۔ مجلسِ مذاکرہ کے شرکانے تاریخ کشمیر اور مِلّتِ کشمیر کے مختلف زاویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملت ِ کشمیر ایک عظیم تمدّن، منفرد تہذیب و ثقافت اور شاندار ماضی کی حامل ہے۔ انہوں نے اپنے مقالات میں یوسف شاہ چک، علامہ محمد اقبالؒ، حضرت امام خمینیؒ اور شہید مقبول بٹ کو کشمیریوں کا عظیم ہیروقرار دیا۔ مجلسِ مذاکرہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت و بلتستان اورآزادکشمیر کے نمائندگان نے حصّہ لیا اور منتظم کے فرائض محترم منظوم ولایتی نے انجام دئیے۔ فورم کے سیکرٹری جنرل محترم نذر حافی نے اپنے مقالے میں یوسف شاہ چک سے مقبول بٹ شہید تک کے حالات کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہ یہ ایک المیّہ ہے کہ آج کا کشمیری نوجوان اپنے ماضی سے غافل ہے اور وہ یہ نہیں جانتا کہ اُس کی گردن میں غُلامی کا طوق کس نے پہنایا ہے۔ انہوں نے بابائے مقبول بٹ شہید اور یوسف شاہ چک کو کشمیر کی مظلوم ترین شخصیات قرار دیا۔ اُن کے بعد مجلسِ مذاکرہ کے مہمانِ خصوصی علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی نے اپنے صدارتی خطبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا کی ساری مستضعف اقوام خصوصاً ملتِ کشمیر کیلئے ایک نمونہ اور آئیڈیل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ صاحبانِ علم و قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو بیان کریں اور اقوام کو بیدار کریں۔
