کشمیری جوانوں کو یوسف شاہ چک سے لے کر مقبول بٹ شہید تک کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔پاکستان ساری دنیا میں کشمیریوں کا وکیل ہے اور شہید مقبول بٹ ہم سب کے ہیرو ہیں۔
نذر حافی
شہید مقبول بٹ کے یومِ شہادت کے موقع پر قم المقدس ایران میں مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد۔ محققین نے ملتِ کشمیر کی غُلامی کے اسباب اور شہید مقبول بٹ کے وژن پر روشنی ڈالی۔ تفصیلات کے مطابق مجلسِ مذاکرہ میں محترم نذر حافی کے مقالے کا عنوان ” غدّاروں کی نشاندہی چک خاندان کے زوال سے مقبول بٹ کی شہادت تک ” تھا۔ مقالے میں یہ نتیجہ دیا گیا کہ کشمیریوں کی غُلامی کی وجہ اپنوں کی غدّاری ہے۔کشمیر کے ایک غدّار طبقے نے مغلوں کو کشمیر پر حملے کی دعوت دی تھی جس کے بعد پھر کشمیر کبھی آزاد نہیں ہو سکا۔اُن کی تحقیق کے مطابق شہید مقبول بٹ حقیقی معنوں میں ملّتِ کشمیر کے ترجمان تھے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں یہ تاکید بھی کی کہ کشمیری جوانوں کو یوسف شاہ چک سے لے کر مقبول بٹ شہید تک کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے اور یہ کھوج لگانی چاہیے کہ کون سا طبقہ کشمیر کی غُلامی کا ذمہ دار ہے ؟ ان کے مطابق ملتِ کشمیر اس جہت سے انتہائی خوش قسمت ملت ہے کہ اس کے دامن میں یوسف شاہ چک، علامہ اقبال ؒ، حضرت امام خمینیؒ اور مقبول بٹ شہید جیسی شخصیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا اگر حضرتِ امام خمینیؒ کے افکار و نظریات ملتِ ایران کو اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت سے نجات دلاسکتے ہیں تو ملتِ کشمیر بھی ان افکار پر عمل پیرا ہو کر غلامی کی زنجیروں کو توڑ سکتی ہے۔انہوں نے بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ پاکستان ساری دنیا میں کشمیریوں کا وکیل ہے اور شہید مقبول بٹ ہم سب کے ہیرو ہیں۔ ۱۱ فروری ۲۰۲۳ کو مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام قم المقدس میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے کیا تھا اور منتظم کے فرائض جناب منظوم ولایتی نے انجام دئیے۔
