Input your search keywords and press Enter.

مقبول بٹ شہید کا ایک جملہ

مقبول بٹ شہید کا ایک جملہ
نذر حافی
گزشتہ دنوں مقبول بٹ کا یومِ شہادت تھا۔اس موقع پر اکثر لکھاریوں نے تکراری باتیں لکھیں۔ شاید ہمارے لکھاری یہ بھول گئے ہیں کہ تاریخ میں کوئی ایک سقراط نہیں گُزرا ۔تاریخ کا دھاراموڑنے والے یہ سارے مزاحمت کار اپنے اپنے دور میں زہر کے جام پیتے رہےہیں۔ ہمیشہ ان کا قد و کاٹھ اِن کے عہد سے بڑا ثابت ہوا اور ان کی نظر وں نے ہمیشہ بہت دورتک دیکھا۔ دنیا میں ایسے درویش صفت اوردور اندیش اگر تکرار نہ ہوں تو یہ معاشرہ فرسودہ رواجوں کا جوہڑ بن جائے ۔
سچ تو یہی ہے کہ زہر کے جام نے کبھی بھی مزاحمت کاروں کا کچھ نہیں بگاڑا ۔ بِکے ہوئے اور گھسے پٹےبے شعور لیڈروں کے ہجوم سے اُن کا راستہ مختلف ہوتا ہے۔ وہ شاہراہِ عام پر نہیں چلتے۔ اُن کی تاریخ کبھی مسخ کی جاتی ہےاور کبھی چھپائی جاتی ہےلیکن اُنگلی کے پیچھے سورج نہیں چھُپتا۔
آپ تاریخِ اسلام کی ہی مثال لے لیجئے ۔ یعنی ایسی مسخ شُدہ تاریخ کہ جس میں اُمّوی ، عباسی، لودھی، مُغل،ُترک وافغانی بادشاہ ، جتنے بھی قاتل، ڈکٹیٹر اور ظالم تھے وہ خیر سےظلِّ الٰہی بن گئے۔ ظالموں، آمروں، ڈکٹیٹروں اور غاصبوں کی وہ قصیدہ خوانی کی گئی ہے کہ الاماں۔ ہماری آئندہ نسلیں اب ان بادشاہوں کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کے بجائےان کی پوجا کیا کریں گی۔ ہم نے تاریخ کو عبرت کدے کے بجائے شرک کدہ بنا دیا ہے۔ جو ہماری تاریخ پڑھے گا وہ ظالموں کے مقابلے کیلئے بیدار نہیں ہوگا بلکہ ظالموں کا پرستار بنے گا۔
ایسی جمود آور تاریخ کو رد کرنے والوں میں تین کشمیری بھی شامل ہیں۔ بیسویں صدی میں جب برِّ صغیر کےمسلمان ہر طرف سے مایوس تھے تو علامہ اقبالؒ نے ایک مایوسی شکن نہج اپنائی اورریاستِ پاکستان کا تصوّر دیا۔ اسی طرح جب مسلمانوں نے یہ یقین کر لیا تھا کہ اب حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور تک ہم نے بادشاہوں کی غُلامی ہی کرنی ہے تو اُس وقت حضرت اِمام خمینی ؒ نے بادشاہت پر خطِ تنسیخ کھینچ کر دنیا کو اسلامی جمہوریت کا پیغام دیا۔ یہ جہانِ اسلام پر چھائی ہوئی فرسودہ سوچ کے خلاف ایک بہت بڑی مزاحمت تھی۔ پھر جب کشمیریوں نے نسل در نسل غُلامی کے بعد اپنی آزادی کیلئے دوسروں کی طرف دیکھنے کی عادت اپنا لی تھی تو ایسے میں مقبول بٹ شہید نے کشمیریوں کو اُن کے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا پیغام دیا۔
اس پیغام کیلئے انہیں مصلوب ہونا پڑا۔جب مقبول بٹ جیل میں قید تھے تو اُس دوران برطانیہ میں ایک بھارتی سفیر قتل ہوا جس کی پاداش میں اُنہیں پھانسی دی گئی۔ اسے کہتے ہیں مرگِ مفاجات۔ پاکستان کے ساتھ رشتہ کیا، لا الہ الاللہ کے اس نعرے سے تو انکار نہیں لیکن کوئی تو ہے جو اِس نعرے سے صرف اپنا مطلب نکالتا ہے۔اُس وقت یہ نعرہ مقبول بٹ کی پھانسی کے راستے میں رُکاوٹ نہیں بنا۔ اسی طرح بھارتی سفیر کے قتل جیسی غیر سنجیدہ حرکت محض حماقت نہیں ہو سکتی۔یعنی ہمیشہ کی طرح شریکِ سازش اور سہولتکار موجود تھے۔ اُن کے ڈیتھ ریفرنس پر ہائی کورٹ کے ایک قاضی کے بھی دستخط تک نہیں پائے گئے، حالانکہ دو ججوں کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں۔ گویا وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے جن کے نزدیک قاضی کے دستخطوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ یعنی ایک قیدی پر خود ہی الزام لگایا گیا اور خود ہی مار دیا گیا۔قاتلوں نے اسکے بعد وہیں جیل میں ہی قبر کھودی اور دفنا بھی دیا ۔ ۱۹۸۴ کا یہ سانحہ معاصر تاریخ میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا ایک تاریخی دھوکہ ہے ۔
ایسا ہی ایک دھوکہ اسی نام نہادجمہوریہ کے اکبر بادشاہ نے ۱۵۸۶ میں بھی کشمیریوں کے ساتھ کیا تھا۔ جب مغلوں کیلئے کشمیر ناقابلِ تسخیر ثابت ہو گیا تو انہوں نے کشمیریوں کے اندرغدّاروں کو تلاش کیا۔ کشمیر کے جنونی مُلّاں، اکبر بادشاہ کی خلافت کو کشمیر میں لانچ کرنے کیلئے سہولتکار بنے۔ اکبر بادشاہ نے یوسف شاہ چک کو کشمیر سے مذاکرات کے بہانے لاہور بُلایا اور وہیں دھوکے سے گرفتار کر کے "بہار” کی طرف جلاوطن کر دیا۔یوں پہلی مرتبہ مغلوں کی خلافتِ اسلامیہ کے شیدائیوں نے کشمیر کو ہندوستان کی غُلامی میں دیااور پھرآج تک کشمیر غُلام ہی ہے۔ یوسف شاہ چک بھی مقبول بٹ کی مانند پردیس میں ہی دفن ہوئے اور کشمیری ان دونوں کی باقیات کو کشمیر میں واپس لانا ضروری سمجھتے ہیں۔
آج کشمیر کی نسلِ نو نہیں جانتی کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یوسف شاہ چک اور مقبول بٹ سے غدّاری کی !۔ضرورت ہے کہ یوسف شاہ چک اور مقبول بٹ شہید پر تحقیقی مقالات لکھے جائیں اور تجزیہ و تحلیل کا آغاز کیا جائے ۔ غُلامی کی زنجیر وں کو توڑنے کیلئے اذہان کو بدلنا ضروری ہے۔ ذہن تب بدلتے ہیں جب لوگ سچائی سے آگاہ ہوتے ہیں۔ لوگوں کو سچائی سے آگاہ کرنا ہے تو پھر لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ کشمیر میں غُلامی کی ابتدا کرنے کیلئے کون کون سے مُلّاوں نے اکبر بادشاہ کو حملے کی دعوت دی تھی!؟ ۱۵۸۶ سے شروع کیجئے اور پاکستان بننے کی مخالفت اور پھر مقبول بٹ شہید تک پہنچتے پہنچتے آپ کو سب کچھ سمجھ آ جائے گا۔
آخر میں تعلیم یافتہ اور تاریخ دان طبقے کو مقبول بٹ شہید کا یہ تاریخی جملہ یاد دلاتا چلوں کہ ” میں کشمیر میں جبر ،ظلم ،فرسودگی ،دولت پسندی اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوا ہوں۔”
جی ہاں یاد رکھئے!جو تعلیم ہمیں ذہنی پسماندگی،دینی جمود، اجتماعی فرسودگی، ارتکازِ زر، استحصال، غلامی، غدّاری،کرپشن، رشوت اورمنافقت کے خلاف بغاوت پر نہیں اُکساتی وہ تعلیم، تعلیم نہیں بلکہ کاغذوں اور کتابوں کا خسدان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے