Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کا المیہ اور یوم یکجہتی

معروف کشمیری محقق اور دانشور غلام محمد میر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری رہنما خود کشمیر پر ہونے والے بیشتر مظالم کا سبب بنے ،وہ دکھی دل کے ساتھ کہتے ہیں کہ کشمیریوں کیلئے سال کا ہر دن ہی یوم شہدا ہے، یہ ایک دلخراش حقیقت ہے کہ وحشی حملہ آوروں مہر گل اور ذلچو خان جنہوں نے کشمیریوں کو بے دریغ تباہ کیا، انہیں مقامی حمایت حاصل تھی، اسی طرح مغلوں، افغانوں اور سکھوں (جو مہر گل اور ذلچو خان سے کم سفاک نہیں تھے) کو بھی کشمیر پر حملہ کرنے کی دعوت کسی اور نے نہیں بلکہ خود کشمیریوں نے دی تھی، اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے حکمرانوں میں سے چند ایک کے علاوہ کسی نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کو شامل کرنے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی۔ اگرچہ اس بات سے انکار نہیں کہ 1947اور 1965کی جنگیں کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے لڑی گئیں لیکن مناسب منصوبہ بندی کے فقدان، غیر معمولی جلد بازی اور سول و فوجی قیادت کی نا عا قبت اندیشی کی وجہ سے یہ جنگیں با آور نہ ہو سکیں اور یوں فوجی مہمات کشمیر یوں کےدکھوں کا مداوہ کرنے میں ناکام رہیں،ہر سال 5فروری کو کشمیری بھائیوں کی حمایت کے اظہار کے لیے آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے لیکن کیا محض ایک دن منانے اور تقریریں کرنے سے کشمیر کو آزاد کرانے میں مدد ملے گی یا اس کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار ہو جائے گی، اس تناظر میں اقوام متحدہ میں سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی 1954اور وزیر اعظم عمران خان کی 2019میں کی گئی تاریخی تقاریر کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔کیا ان کی فصاحت و بلاغت بھرپور تقریروں سےکشمیر کے لوگوں کی حالت زار پر کوئی فرق پڑا، عمران خان نے اپنی بساط کے حساب سے بھت مخلصانہ کاوشیں کیں مگر وہ اقتدار سے ہٹا دیئے گئے، یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہوئے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1972میں شملہ معاہدے کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کی حیثیت کو تبدیل کیا، اس طرح آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو عملی طور پر تقسیم کر دیاگیا۔بعد ازاں پرویز مشرف کے بدنام زمانہ چار نکاتی فارمولے نے اس تقسیم کوآگے بڑھایا، اس کے بعد آصف علی زرداری نے کشمیر کے مسئلے کو تیس سال کے لیے منجمد کرنے کا منصوبہ بنایا جس نے مسئلہ کشمیر کو مزید سرد خانے میں دھکیل دیا، نواز شریف نے بھی مسئلہ کشمیر پر خاموشی اختیار کی اور کشمیر کے سانحات پر تجارت کو ترجیح دی، حیران کن طور پر انہوں نے کشمیری قیادت کو تجویز دی کہ وہ بھارتی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کشمیر کا حل تلاش کریں،کشمیریوں اور اہل پاکستان کے جنرل باجوہ کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ہنگلاج ماتا مندر کی سالانہ چار روزہ یاترا میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے حالیہ انکشافات بھی اتنے ہی خوفناک ہیں، اس منصوبے کے تحت بارمیر کو ہنگلاج ماتا مندر سے منسلک کرکے دونوں ممالک کے درمیان ہنگلاج راہداری کھولنے کا منصوبہ اور دوطرفہ تجارت کو کھولنا تھااور ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کے تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے دبئی میں انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں لوگوں کو مزید بدظن اور مایوس کیا ۔اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنےکے مقصد سے کشمیری قیادت کی شدید بے حسی نے ہماری نئی نسل کو اس کی اہمیت، جدوجہد کی نوعیت اور کسی بھی قابل عمل حل کے حوالے سے کنفیوژ کر دیا ہے۔زیادہ اذیت ناک حقیقت یہ ہے کہ کشمیری قیادت بہ حیثیت مجموعی کشمیر کی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی حقیقتوں سے ناواقف ہے۔اس قیادت کو سری نگر کے مصائب سے زیادہ مظفرآباد اور اسلام آباد،رائے ونڈ اور لاڑکانہ کی زیا دہ فکر ہے کیونکہ اقتدار کا راستہ انہی راہداریوں سے ہو کر جاتا ہے، اس پس منظر میں اس قیادت سے کوئی خاطر خواہ تعاون کی توقع کرنا مشکل ہ۔اس سال ہمیں پھر 5 فروری 2023 کو یوم یکجہتی منا تے وقت 1930 کی دہائی کے اوائل میں رونما ہونے والے ہولناک واقعات کو یاد کرنا چاہئے تھا۔ شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں کہ 5 فروری 1932 کو اوڑی کی ایک مسجد میں جمعۃ الوداع کے دن مسلمانوں نے نماز ادا کر کے ڈوگرہ راج کے ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔اس احتجاج کو دبانے کے لئے فوج نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔ اس قتل عام سے پہلے سری نگر جیل میں قتل و غارت گری کے واقعات ہوئے جس کے نتیجے میں 70شہید اور ایک سوپچاس سے زائد کشمیری مسلمان شدید زخمی اور بعد میں معذور ہو گئے تھے ، جامع مسجد کی بندش اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہوئیں، ان واقعات نے مہا راجہ کو گھناؤنے منصوبے بنانے پر اکسایا تاکہ مظاہرین کو کچل دیا جائے،لہذا اس نے جارج ویک فیلڈ کو برطرف کرنے کے بعد، راجہ ہری کشن کول کو ریاست کا وزیر اعظم مقرر کیا جس نے چار ماہ کے اندر تحریک کو دبانے کا عہد کیا۔ حالات کو قابو میں لانے کے اور لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے حکومت نے نومبر 1931 میں گلانسی کمیشن تشکیل دیا۔ اسی دوران مسٹر جیون لال منٹو، جو وزیراعظم کول کے ایجنٹوں میں سے ایک تھا، اس نے میرپور اور راجوڑی میں ایک تحریک چلائی اورلوگوں کو زمین کا ٹیکس ادا نہ کرنے پر اکسایا، درحقیقت اس کے مذموم منصوبہ کا مقصدحکومت کو مشتعل کرنا تھا تاکہ وہ مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کر سکے۔ اس کے بعد مہا راجہ نے برٹش انڈین حکومت سے فوجی امداد اور کارروائی کیلئے کہا،اس کے نتیجے میںپہلی بار دو آئرش انفینٹری ڈویژنوں اور ایک ہارس کیولری رجمنٹ نے میرپور اور راجوڑی کے نہتے کسانوں پر گولیاں بر سائیں ،اس صریح قتل عام کے نتیجے میں میرپور میں تقریباً ایک ہزار اور راجوڑی میں تقریباً چار سو مسلمان شہید ہوئے ۔زخمی کسانوں کی تعداد کبھی بھی ظاہر نہیں کی گئی، میرپور میں قتل عام کے بعد، شیخ عبداللہ جو سری نگر جیل میں تھے انہوں نے حکومت کو ٹیلی گرام کیا اور میرپور اور راجوڑی کی تحریک اور اس کے نتیجے میں وہاں ہونے والے مسلمانوں کے قتل سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کیا ،اس اعلان کے بعدشیخ عبداللہ کو تو جیل سے رہا کر دیا گیا مگرمسلمانوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا،گزشتہ سال 5 فروری کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کیلئے سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے پر زور دیا اور اپنی بساط کے مطابق کشمیریوں کے ساتھ خلو ص کے ساتھ کھڑے رہے ،اس بار وزیر اعظم شہباز شریف نےمظفر آباد کا دورہ کیا اور آزاد جموں و کشمیر اسمبلی سے خطاب بھی کیا ، کیا محض یوم یکجہتی کشمیر منانا کشمیریوں کے غم و غلامی کا جواب ہے؟ کیا کشمیریوں کے پاس آزادی، حاصل کرنے کا جذبہ، منصوبہ بندی اور حکمت عملی موجودہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے