1948-49ء میں ابھی تک نہرو سوویت یونین کے منظور نظر نہیں تھے۔ان دنوں جب کبھی بھی سوویت یونین کے اخبارات میں جواہر لال نہرو کا ذکر کیا جاتا تو انہیں’’ہندوستان کا چیانگ کائی شک‘‘ اور امریکی سامراج کا ہمنوا کہا جاتا تھا اور شیخ عبداللہ کی ترقی پسندی اور جمہوریت نوازی کی تعریف کی جاتی تھی، کشمیر کی کمیونسٹ پارٹی ماسکو کے زیر اثر تھی۔پریم ناتھ بزاد کی کتاب The history of struggle for freedom of kashnir(صفحہ418-426) کے مطابق کشمیر کی کمیونسٹ پارٹی کی سرکاری حلقوں سے باہر کوئی مقبولیت نہیں تھی، وادی کشمیر کے مسلم عوام ان سے نفرت کرتے تھے، وجہ یہ تھی کہ کشمیر کی کمیونسٹ پارٹی زیادہ ترہندوئوں پر مشتمل تھی اور ان ہندو کمیونسٹوں نے مارکزم کی علمبرداری کے باوجود اپنے فرقہ وارانہ رجحان کو ترک نہیں کیا تھا۔وہ کہتے تھے کہ اگر کشمیر کا دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق ہونا لازمی ہے، تو پھر اس کو ہندوستان میں شامل ہونا چاہیے ،ان کا فرقہ پرستانہ رویہ کشمیری مسلمانوں کو قبول نہیں تھا اور اسی وجہ سے 1950ء میں کشمیر کمیونسٹ پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی تھی، جب پارٹی کے مسلم ارکان کی اکثریت محی الدین کرا کی قیادت میں ہندو کمیونسٹوں سے الگ ہو گئی، تو ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی نے ہندو دھڑے کا ساتھ دیا‘‘ادھر اینگلو امریکی سامراج ‘ لارڈ مائونٹ بیٹن کے دوست نہرو کے ذریعے اس خطے میں اپنے مستقبل کے مفادات کی راہ ہموار کر رہا تھا۔نہرو نے بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کے ذریعے برطانیہ کو اپنے تعاون اور اشتراک عمل کا یقین دلا رکھا تھا جبکہ سوویت یونین کو بھی بھارت کی ضرورت تھی اور کشمیر کی بھی۔نہرو کو اس کا اندازہ تھا چنانچہ وہ ایک ہی وقت میں اینگلو امریکی سامراج کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رکھے ہوئے تھے اور سوویت یونین کے ساتھ دوستی کی پینگیں بھی بڑھا رہے تھے، بھارت کامن ویلتھ میں بھی شامل تھا مگر اس نے اپنے آپ کو کسی بھی مغربی دفاعی معاہدے میں نہیں جکڑا تھا بعد میں جب چین اور روس کے درمیان تضاد پیدا ہوا تو بھارت نے چین کے خلاف روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کر لئے امریکہ اور برطانیہ کو بھی نہرو کے اس انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔نہرو نے ڈپلومیسی کی شطرنج میز پر اپنے ملکی مفاد کے لئے محفوظ اور ہوشیار چالیں چلیں جبکہ نوابزادہ لیاقت علی خان نے شروع میں ہی پاکستان کو امریکہ کی گود میں ڈال دیا۔وہ 1949ء میں سٹالن کی دعوت کو اعلانیہ قبول کرنے کے باوجود ٹرولین کی دعوت پر امریکہ چلے گئے اور تب سے لے کر آج تک پاکستان امریکہ کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکا۔سٹالن چاہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کی ایک ڈھیلی سی فیڈریشن بن جائے۔جنوری 1951ء میں جنرل محمد ایوب خان کے کمانڈر ان چیف بننے کے فوراً بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی معاہدوں کی بات چیت شروع ہو گئی تھی، میجر جنرل اکبر خان اپنی کتاب کے صفحہ 160-62پر لکھتے ہیں۔جنرل ایوب خان 1951ء میں روس اور چین کے حملے کا اکثر ذکر کیا کرتا تھا اور اس کی باتوں کی بنیاد یہ تھی کہ مغربی طاقتوں کو ایشیاء میں سوویت یونین اور چین کے خلاف فوجی اڈے قائم کرنے کی ضرورت تھی، ہندوستان نے بڑی طاقتوں کی اس رسہ کشی میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا تھا لیکن پاکستان میں جنرل محمد ایوب خان جیسے عناصر ملک و قوم کی آزادی و خود مختاری کو سامراجیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے پر آمادہ تھے‘‘۔ مسئلہ کشمیر پر جب 1948ء میں برطانیہ نے بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف قلابازی کھائی، تو قائد اعظم نے وزیر اعظم ایٹلی کو اپنے وزیر اعلیٰ لیاقت علی خان کے ذریعے نہ صرف احتجاجی تار بھجوایا بلکہ انہوں نے پاکستان کے کامن ویلتھ سے علیحدہ ہو جانے کی دھمکی بھی دی۔غالباً اس وقت تک برطانیہ کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ گورنر جنرل محمد علی جناح بیمار ہیں اور پاکستان کا حکمران وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اور برطانیہ کا وفادار جاگیردار ٹولہ اور سفید اور خاکی نوکر شاہی ہر صورت برطانیہ کے وفادار ہیں چنانچہ ایٹلی حکومت نے جب سامراجی ترازو میں مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے بورژروا طبقے اور پاکستان کے جاگیردار طبقے کو تولا تو اسے ہندوستانی بورژرا کا پلڑا بھاری نظر آیا۔حالانکہ مسئلہ کشمیر پر برطانیہ کے رویے کے خلاف پاکستان میں عوامی دبائو تھا کہ کامن ویلتھ کو چھوڑ دیا جائے مگر لیاقت علی نے نہ تو کامن ویلتھ کو چھوڑا اور نہ ہی سوویت یونین سے تعلقات بنانے کی کوشش کی۔پاکستان کے جاگیردار پٹھوئوں سے کسی بھی طرح کی بغاوت کے خطرے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔سفارتی سطح پر ابتدا میں ہی پاکستان نے بھارت کے ہاتھوں شکست کھا لی تھی۔ کشمیر پر بھارت کے قبضے کا ذمہ دار اینگلو امریکی سامراج اور بھارتی حکمران ہیں، وہاں پر مسلم لیگ کی غیر عوامی اور غیر حقیقی ریاستی پالیسی بھی اس کی ذمہ دار ہے۔یاد رہے کہ لیاقت علی خان کے دادا نواب احمد علی خان نے بھی 1857ء کی جنگ آزادی کے موقع پر انگریزوں کی مذمت کی تھی اور جدوجہد آزادی کے متوالوں کو کچلنے کے لئے پنجاب سے دہلی جانے والی انگریز فوج کے اسلحہ بارود اور دیگر جنگی سامان کو کرنال سے بحفاظت گزارنے کا فریضہ انجام دیا تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو کا ساتھ دیتے ہوئے گورداسپور کو جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، بھارت میں شامل کر کے بھارت کو کشمیر کا کھلا راستہ دے دیا تھا۔یاد رہے کہ تقسیم ہند 14اور 15اگست 1947ء کو ہوئی جبکہ بائونڈری کمیشن نے حتمی بائونڈری کا اعلان 17اگست 1947ء کو کیا اور گورداسپور کے مسلمان آخری وقت تک اپنے آپ کو پاکستان میں سمجھتے رہے، ملک پہلے بن گئے اور سرحدیں بعد میں طے ہوئیں۔ برطانوی سامراج کی جگہ امریکی سامراج نے لے لی اور ہمارے حکمران پاکستان کو امریکہ کی ملکیت سمجھنے لگے اقتدار میں آنے اور اقتدار میں رہنے کا منبع امریکہ قرار پایا اور سب امریکہ کے طواف کرنے لگے جو آج تک جاری ہیں۔1947-49ء میں کشمیر کی محاذ آرائی کے نتیجے میں پاکستان کی دفاع کی سیاسی معیشت نے جنم لیا۔نتیجتاً 1947-50ء میں ہمارے قومی بجٹ کا 70فیصد محکمہ دفاع کو مختص کیا جانے لگا۔عائشہ جلال اپنی کتاب The state of martal ruleصفحہ 238پر لکھتی ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ 1958ء تک پاکستانی فوج ایک پریشر گروپ بن چکی ہے اور ملک کی معاشی ترقی کے مقابلے میں اپنا حصہ ترجیحی بنیادوں پر حاصل کرتی رہے گی، خواہ بھارت ایک وجہ ہو یا نہ ہو۔ کشمیر میں جب محاذ آرائی شروع ہوئی تو حریت پسند آزاد قبائل کا سیلاب مظفر آباد اور سری نگر کی طرف سے کشمیر میں داخل ہو گیا اور چند ہی روز میں یہ مجاہدین چکوٹھی اور بارہ مولا کی سڑک پر سری نگر سے چار میل کے فاصلے پر تھے اس محاذ آرائی میں پاکستانی افواج اس مقام تک پہنچ گئیں کہ پورے کشمیر پر قبضہ کر لیں کہ ہندوستان نے جو کہ گھٹنے ٹیک چکا تھا سلامتی کونسل کا رخ کیا اور جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا، جب پاکستان کو کشمیر میں نمایاں کامیابیاں ہو رہی تھیں، لیاقت علی خان فوراً جنگ بندی کے لئے تیار ہو گئے، قرار داد کے ذریعے استصواب رائے کے وعدے کے نتیجے میں سیز فائر لائن طے ہوئی، سلامتی کونسل کی اس قرار داد پر آج تک عمل نہیں ہو سکا اور کشمیر اپنی آزادی کے لیے کئی نسلوں سے خون بہا رہے ہیں۔ پاک فوج میں اس جنگ بندی کے فیصلے کا ردعمل ایک بغاوت کی شکل میں ہوا۔9مارچ 1951ء کو پاکستانی فوج کے میجر جنرل اکبر خان‘ بحری اور ہوائی فوج کے متعدد افسران‘ فیض احمد فیض اور سجاد ظہیر کو پنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ (جاری ہے)
کشمیر:تاریخ سے تحریک تک……(2)
