۱۵ شعبان ۔۔۔کشمیر کی آزادی کیلئے آمادگی کی شب
نذر حافی
شبِ برات یعنی گناہوں سے رہا ہونے کی شب۔ سارے مسلمانوں کے ہاں شعبان کی پندرہویں شب”شبِ برأت“ ہے۔آپ جس مسلمان سے بھی پوچھیں وہ اس شب کو گناہوں سے رہائی اور نجات کی شب کہے گا۔ اس شب کی مانند دنیا میں ایک ایسی شخصیت بھی ہے جو ساری دنیا کو گناہوں سےرہائی اور نجات عطا کرے گی۔ اُس شخصیّت کو سارے مسلمان حضرت امام مہدی ؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو سارا سال شبِ برات اور حضرت امام مہدی ؑ کا انتظار نہ کرتا ہو۔ یہ شب جہاں ہمیں گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی دعوت دیتی ہے وہیں ایک عالمی نجات دہندہ کی یاد بھی دلاتی ہے۔چنانچہ شبِ برات کا حضرت اِمام مہدیؑ سے تعلق کسی سے مخفی نہیں۔ اس شب کے شبِ برات ہونے سے کسی کو انکار نہیں اور حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور پر بھی سب کا اتفاق ہے تاہم جس کام کیلئے ہم شبِ برات اور حضرت امام مہدی ؑ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی ہمیں خود بھی تیاری کرنی چاہیے۔اقتصادی، سیاسی، نظریاتی، سماجی، تہذیبی اور ثقافتی غُلامی سے نجات کی خاطر سوچ و بچار کرنے کیلئے یہ ایک بہترین شب ہے۔ اس شب میں ہماری سوچ و دعاوں کے مستحقین سارے مستضعفین خصوصاً کشمیری عوام ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ اکیسویں صدی کی عالمی برادری کے پا س بھی اس مسئلے کے حل کی کوئی ضمانت نہیں۔ کشمیر کے اسٹریٹیجک پارٹنرز اور اسٹیک ہولڈرز بھی انگشت بدنداں ہیں۔یہ حیرانی و سرگردانی صرف ہندوستان و پاکستان تک محدود نہیں۔ ساری دنیا متحیّر ہے۔ اقتصادی ، سماجی، سیاسی، تجارتی اور اخلاقی گرداب میں غرق ہوتا ہُوا ہندوستانی و پاکستانی سماج ، ڈوبتا بھی نہیں اور تیرتا بھی نہیں۔کشمیر کی جلتی وادی میں انسانی اقدار کا یوں تہس نہس ہوجانا ایک بہت بڑا المیّہ ہے۔ یہ دُکھ بھی ایک ناقابلِ بیان دُکھ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے اور آزاد کشمیر یعنی آزادی کے بیس کیمپ میں کسی کو پرواہ تک نہیں۔
سوچنے اور سمجھنے والوں کے مطابق سودا بازی ہو چکی ہے اور جن کا سودا ہوا ہے وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اُنہیں کتنے داموں میں فروخت کیا گیا ہے۔اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کشمیریوں کو مہاراجہ گُلاب سنگھ نے اچھے بہاو خریدا تھا یا موجودہ استعمار نے؟
کشمیری عوام کو عقب ماندہ رکھنے کیلئے اُن سے اُن کی سوچ، شناخت، تہذیب، ثقافت اور زُبان تک چھیننے کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر پر اکبر بادشاہ کے حملے سے شروع ہونے والی غلامی ہنوز رُکی نہیں۔ بظاہر اس مسئلے کی گتھیاں سُلجھتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ گتھیاں اس لئے بھی نہیں سُلجھ رہیں چونکہ یہاں اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹ رہا ہے۔ قرینِ انصاف یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں اور غیرمسلموں کا بھی کشمیر کی تہذیب و ثقافت اور تمدّن میں مسلمانوں کے برابر یا اس سے کچھ زیادہ کا ہی حق بنتاہے۔ہمیں بلا چوں و چرا دوسروں کے حق کا اعتراف کرنا چاہیے۔ حقائق کے مطابق کشمیر کی غُلامی کا سہرا سیدھا سیدھا مسلمان غدّاروں کے سر جاتا ہے۔لہذا کشمیر کے مقامی غیرمسلموں کو کشمیر میں قتل کرنے یا کشمیر سے بے دخل کرنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ ابتدا میں ایک سو چھیاسٹھ سال تک کشمیری صرف مُغلوں کے غُلام رہے اور اسی عرصے میں اُن میں غُلامی کی خُو پُختہ ہوئی۔
بقولِ اقبال
تھا جو ناخوب‘ بتدریج وہی خوب ہوا۔۔۔کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
یقیناً بتدریج ضمیر بدلتے ہیں۔ تبدیلی ضمیر کے مشاہدے کیلئے تاریخ پاکستان کو سامنے رکھئے۔ مجھے اس میں کوئی تامل نہیں کہ جس طرح ماضی میں جو شخصیات قیامِ پاکستان اور جدوجہد آزادی کے خلاف تھیں ، انہیں آج مطالعہ پاکستان میں رضی اللہ کا درجہ حاصل ہے، اسی طرح کل کو کشمیر کے غدّار بھی محسنِ ملّت کا درجہ پالیں گے۔ خیرآنے والے کل کے بارے میں منفی خبروں کے ساتھ ساتھ ظہورِ امام مہدیؑ کی ایک امید افزا خبر بھی موجود ہے۔ جہاں دجّال کا خوف ہے وہیں مہدی ؑکی امید بھی۔
دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو سارا سال شبِ برات اور حضرت امام مہدی ؑ کا انتظار نہ کرتا ہو۔ یہ شب جہاں ہمیں گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی دعوت دیتی ہے وہیں ایک عالمی نجات دہندہ کی یاد بھی دلاتی ہے۔چنانچہ شبِ برات میں جہاں اور بہت ساری دعائیں آپ کریں گے وہیں کشمیریوں کی آزادی، عالم انسانیت کی بھلائی، فلسطینیوں اور یمنیوں کی رہائی اور حضرت اِمام مہدیؑ کے ظہور کیلئے بھی دعا کریں۔ البتہ یاد رہے کہ دنیا میں کہیں بھی صرف دعاسے کام نہیں چلتا۔ صرف دعاوں سے نہ ہی تو کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی حضرت امام مہدی ؑ کا ظہور ہوگا۔ اس ظہور کیلئے دنیا کے سارے مظلومین کو خصوصاً سرزمینِ کشمیر کوحضرت امام مہدی ؑ کے ظہور کیلئے آمادہ ہونا ہوگا۔ وہ آمادگی کیسی ہونی چاہیے ؟ اس سوال کا جواب ہر انسان ، ہر مسلمان اور ہر کشمیری کو ڈھونڈنا چاہیے۔ یعنی ہم میں سے ہر ایک کے پاس اس سوال کا جواب ہونا چاہیے ، چونکہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کی ضرورت صرف کشمیریوں کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو ہے۔ شاعرِ مشرق تو بہت پہلے بتا گئے ہیں:
دنیا کو ہے اس مہدیِ برحق کی ضرورت۔۔۔ہو جس کی نگہ زلزلہَ عالمِ افکار
۱۵ شعبان ۔۔۔کشمیر کی آزادی کیلئے آمادگی کا روز ہے۔یہ عالمِ افکار میں زلزلے کا دن ہے۔ ۱۵ شعبان کو ہمیں اپنے نجات دہندہ کی آمد کیلئے اپنی تیاری کو جانچنا چاہیے۔ اس جانچ کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے دماغ میں شبِ برات اور حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں سُنی سنائی کہانیوں کے بجائےحقائق ڈھونڈنے کی جستجو ہو۔ آئیے ہم اپنا جائزہ خود ہی لیں کہ ہمارے پاس شبِ برات اور حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں کہانیاں زیادہ ہیں یا حقائق!؟
