قانوں ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوِئے صدر آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ڈی لیمیٹیشن کر کے وہاں پر ایک ہندئو وزیراعلی لانے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
اسلام ٹائمز۔ صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیری کسی صورت تقسیم کشمیر قبول نہیں کریں گے کیونکہ ہم کشمیریوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنے خون سے تحریک آزادی کو سینچا ہے اور وہاں پر شہداء کی قربانیاں انشاءاللہ جلد رنگ لائیں گی۔ لہذا انٹرنیشنل کمیونٹی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اُن کا حق خودارادیت دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز یہاں آزادکشمیر کے درالحکومت مظفرآباد میں آزادکشمیر قانون سازاسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں قیام امن ممکن نہیں، لہذا ایسے وقت میں آزادی کے بیس کیمپ سے ہماری یہ دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم یہاں سے جہاں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آواز بلند کریں وہاں مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے میں بھی انٹرنیشنل کمیونٹی کی توجہ مبذول کرائیں۔ اس سلسلے میں جہاں میڈیا، سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے کشمیری عوام کا موقف دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے وہاں پر بیرون ملک آباد کشمیری بھی انٹرنیشنل کمیونٹی کی توجہ کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے کے لئے مبذول کرا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 05 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے تبدیلیاں شروع کر دی ہیں اور وہاں پر انسانی حقوق کی پامالی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کر رہا ہے جس کے مطابق اُس نے بیالیس لاکھ سے زائد غیر ریاستی ہندوئوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے ہیں اسی طرح وہاں پر ڈی لیمیٹیشن کر کے وہاں کی حلقہ بندیاں تبدیل کر رہا ہے جس سے کہ وہ وہاں پر ایک ہندئو وزیراعلی لانے کی راہ ہموار کر رہا ہے اور جس سے وہ مسئلہ کشمیر کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔
صدر آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو باور کرایا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں تیسری دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو کہ پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہذا مسئلہ کشمیر کے اس اہم اور فیصلہ کن موڑ پر انٹرنیشنل کمیونٹی کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں آئے روز اضافہ کر رہا ہے لہذا اسی طرح اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں پر جن لوگوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے گئے ہیں اُن کو آباد کیا جا سکے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا سکے۔
