تحریر: منظور حیدری
اس مرتبہ 23 رمضان المبارک کو جمعۃ الوداع منایا گیا۔ اس موقع پر میں ایران کے شہر قم المقدس میں تھا۔ ایران کے دیگر شہروں کی طرح قم المقدس میں بھی یوم القدس کی ریلیاں منعقد ہوئیں۔ اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ قم نے بھی ایک محفل مذاکرہ کا انعقاد کیا تھا۔ قاری سید احتشام کاظمی نے کلام الٰہی کا شرف حاصل کیا۔ مجلسِ مذاکرہ کا مقدمہ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل آقای نذر حافی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں کی حمایت بھی نماز و روزے کی مانند ایک دینی فریضہ ہے۔ اس دینی فریضے کو بھی قضا نہیں ہونا چاہیئے۔
مقدمہ سازی ہوچکی تو کشمیری اسکالر ڈاکٹر احمد میر کشمیری نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے باہمی ربط کو بیان کرتے ہوئے کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی اسلام کے دو اہم مسئلوں کو بہت اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بارہا اپنے بیانات میں ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ پہلا مسئلہ فلسطین اور دوسرا مسئلہ کشمیر۔ امام خمینی فرماتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا آپس میں اتحاد ہوتا تو نہ صیہونی ہم سے فلسطین لے سکتے تھے اور نہ ہی ہندو ہم سے کشمیر چھین سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کشمیریوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا جا رہا ہے، نہیں معلوم آگے چل کر کیا ہوگا۔
اسی طرح نظام تعلیم میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں ہیں، جن کی وجہ کشمیر سے کے طلباء کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، اسی طرح انہوں نے مخصوص عناصر کی طرف سے کشمیر میں اخلاقی برائیوں کو عام کرنے کے عمل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ ریاست میں قابض عناصر کی طرف سے شراب نوشی، فحاشی اور عریانیت کو اپنے کارندوں کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ قوموں کو ہمیشہ اخلاقی اور معاشرتی برائیاں پھیلا کر شکست دی گئی ہے اور آج کشمیر میں بھی یہی حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح فلسطین کا مسئلہ اہم ہے، اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ کشمیر میں استبداد و آمریت کا دور دورہ اور کشمیریوں کی صدا کشمیر کی وادی سے باہر نہیں جا رہی ہے۔
ان کے بعد مجلس وحدتِ مسلمین شعبہ امورِ خارجہ کے مسئول حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے یوم القدس کی اہمیت اور تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جونہی برطانیہ فلسطین سے نکلا تو صیہونیوں نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔ وہاں کے مقامی لوگوں نے مقاومت شروع کی، جو کچھ بھی ان سے ہوسکتا تھا کیا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ یاسر عرفات جب حرکت فتح کا سربراہ تھا تو ان کو بہت عزت ملی۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے ذریعے انہوں نے مقاومت کا خاتمہ کر دیا اور سودا بازی کی بنیاد رکھی۔ عرب ممالک نے مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ کی، لیکن 6 روزہ جنگ میں مصر و شام کے علاقے بھی چلے گے۔ آل سعود کے دوغلے پن کی وجہ سے عربوں کے حوصلے پست ہوگئے۔
1973ء میں جب حافظ اسد نے شام کے علاقے واپس لیے تو عربوں کو تھوڑا بہت حوصلہ ملا۔ پھر انور سادات نے مسئلہ فلسطین کو بڑا دھچکا پہنچایا۔ اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا۔ اس کے بعد مقاومت بالکل ختم ہوگئی۔ عرب لیگ جو کہ اپنی قوت کی بحالی کے لیے بنی تھی، مذکرات کے ٹیبل پر آگئی۔ یہاں سے مسئلہ فلسطین بھی مسئلہ کشمیر کی طرح لٹکنا شروع ہوا اور آج تک اُسی طرح لٹک رہا ہے۔ 1970ء کے بعد سب نے یقین کر لیا تھا کہ اب اسرائیل سے جیتنا ممکن نہیں، لہذا فلسطین کے حصّے بخرے ہونے دیئے جائیں۔ یہ ایک یونیورسل اور تاریخی سچائی ہے کہ اگر حضرت امام خمینی ؒکا انقلاب نہ آتا تو مسئلہ فلسطین دفن ہوچکا تھا۔ عربوں نے اسرائیل سے معاہدے کر لئے تھے۔ انقلابِ اسلامی کے بعد پہلے رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کا نام دے کر امام خمینی ؒنے بتا دیا تھا کہ ان کیلئے جتنا ایران مہم ہے، اتناج ہی فلسطین کا معاملہ بھی اہم ہے۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر شیرازی نے اس موقع پر شہید عارف حسین الحسینی کا ایک جملہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شھید قائد فرماتے تھے، جہاں بھی مذہبی اختلافات ہوں، سمجھو کہ اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے اور جہان بھی لسانی و قومی اختلافات ہوں، سمجھو کہ اس کے پیچھے برطانیہ کا ہاتھ ہے۔
اسی طرح انہوں نے اخوان المسلمین کا پردہ بھی چاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخوان یوں تو اسلامی سیاست کی بات کرتے تھے، حالانکہ حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کو خود برطانیہ نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے بنایا تھا۔ افغان پالیسی اور ذوالفقار بھٹو کے قتل کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔ اس کام کے لیے جن لوگوں کو استعمال کیا گیا، آج بھی پاکستان میں دیکھ لیں رژیم چینج میں وہی استعمال ہو رہے ہیں۔ سارے کے سارے وہی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی آج خود ان کے ساتھ شامل
ہوگئی ہے۔ اس وقت 9 تنظیموں کا اتحاد تھا اور آج 14 جماعتوں کا اتحاد ہے۔
بہرحال اگر امام خمینیؒ یوم القدس کا اعلان نہ کرتے تو فلسطین کا معاملہ دفن ہو جاتا، کیونکہ عربوں نے تو ہاتھ اٹھا لیے تھے اور اسرائیل سے سودا بازی شروع کر رکھی تھی۔
فلسطین کی آزادی کی وہ نحیف آواز جو تہران سے اُٹھی تھی، آج ساری دنیا میں گونج رہی ہے۔ حضرت امام کے بعد رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای ؒ اور ان کے پیروکار خصوصاً شہید قاسم سلیمانی نے مسئلہ فلسطین کے حل اور قدس کی آزادی کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ حضرت امام خمینی ؒنے یوم القدس کو یوم اللہ قرار دیا تھا، ان کے بعد اسلامی انقلاب کے رہنماوں نے یوم اللہ کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا ہوا ہے۔ آج آپ دیکھ لیں کہ نیٹو پاور کے باوجود بھی امریکہ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ جا کر یوکرین کو نہیں بچا سکتا۔ پس اسرائیل کے دن گنے جاچکے ہیں اور فلسطین کی آزادی بہت قریب ہے۔
گفتگو نہایت دلچسپ، معلوماتی اور مفید تھی، البتہ اذانِ مغرب اور افطار کا وقت بھی نزدیک ہوا چاہتا تھا۔ معزز خطیب نے موضوع کو سمیاٹا اور مائیکروفون آقای نذر حافی کے سُپرد کر دیا۔
انہوں نے محفل مذاکرہ میں شریک تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور اذان مغرب و افطاری یعنی قبولیت دعا کی ساعتوں میں فلسطین و کشمیر کی آزادی کیلئے دعا کی۔ آگاہی، شعور اور بصیرت کے لحاظ سے یہ محفل مذاکرہ بہت اہم تھی۔ قابل صد تحسین ہیں، سپورٹ کشمیر فورم اور مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کے وہ احباب، جو ایسی مفید اور تخصصی نشستوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے ہاں تجزیہ و تحلیل کی بہت کمی ہے۔ ایسی محافل و مجالس نسل درنسل تجزیہ و تحلیل کے ساتھ حقائق کو منتقل کرنے کا بہترین وسیلہ ہیں۔ ہم انہی محافل کے ذریعے اپنے تاریخی حقائق اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرسکتے ہیں۔ بقولِ اقبال:
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
