Input your search keywords and press Enter.

سپورٹ کشمیر میگزین ایک نظر میں

سپورٹ کشمیر میگزین ایک نظر میں
تحریر: منظور حیدری
عید کا دن ڈھل رہا تھا۔ نمازِ مغرب سے کچھ دیر پہلے جب سب دوست و احباب سے ملاقات ہو چکی اور مرحومین کی قبروں پر فاتحہ خوانی بھی کر چکے تو پھر بھی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی بھی کچھ ضروری کام باقی ہیں۔ میں نے سوچا کہ چلیں کچھ دیر اُنہیں یاد کرتے ہیں جو آج ابھی تک ہماری یاد کے منتظر ہیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ خیال ایک میگزین کو دیکھ کر آیا۔ دیارِغیر میں کسی اردو میگزین کا ہاتھ لگنا کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مجلّے ٹائٹل پر جلی حروف میں ” مظلوم کے حامی اور ظالم کے دشمن بن کر رہو” لکھا تھا۔ میں نے شش ماہی سپورٹ کشمیر میگزین کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میری عادت ہے کہ اکثر دوسروں کو بھی اپنے مطالعے میں شریک کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ چنانچہ آئیے آپ بھی میرے ساتھ سپورٹ کشمیر میگزین کے صفحات کا سرسری مطالعہ کیجئے۔ مجلے کا وژن رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای ؒ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔
اداریے میں مدیر اعلیٰ نے لکھا ہے کہ ” 21 اگست 2019ء کو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای نے ایک بیان کے ذریعے ساری دنیا کو چونکا دیا۔ رہبرِ معظمؒ کے علاوہ کسی اور میں اتنا دم خم ہی نہیں تھا کہ اُس کی بات کو زمانہ اتنی سنجیدگی سے لیتا۔ سو ہم نے بھی اپنے رہبر، پیشوا اور قائد کے اس فرمان کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جاری ظُلم کو دیکھ کر خاموش رہنے کی کراہت کو پہلی مرتبہ اتنی شدّت کے ساتھ محسوس کیا۔
دوست و احباب کے درمیان اس مسئلے پر خاموشی کو توڑنے کی بات چل پڑی۔ بات یہی تھی کہ بات کون کرے!؟ مسئلہ یہی تھا کہ مسئلہ اٹھائے کون!؟ رہبرِ معظم کے فرمان کے بعد حجّت تو تمام ہوچکی تھی، تاہم کسی کو کچھ سُجھائی نہیں دے رہا تھا۔ بالاخر 27 جون 2020ء کو کچھ ہم فکر دوستوں نے ایران کے شہر قم المقدس میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی بنیاد رکھی۔ سمجھنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فورم اپنے وجود میں لبیک یا خامنہ ای کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد رہبر معظم کے فرمان کے مطابق ہم لوگ اپنی بساط اور توان کے مطابق کشمیر کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کیلئے کھڑے ہوگئے۔ ہمارا پڑاوٴ آج بھی بالکل وہیں پر ہے، جہاں ایک طرف برطانوی سامراج، مسٹر ریڈ کلف، جنرل گورسی اور مسٹر مودی جیسے جلاد تیغ بکف ہیں اور دوسری طرف مظلوم و محکوم ملّتِ کشمیر نوحہ کناں ہے۔ ہمارا اوّل و آخر منشور یہی ہے کہ مظلوم کے حامی بنو، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ظالم کے خلاف ہو جاو، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔”
اسکے بعدسپورٹنگ اداریے میں کشمیر کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کا تفصیلی مؤقف بیان کیاگیا ہے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم ؒ کے ساتھ علامہ محمد اقبال ؒ کی بات بھی ہونی چاہیے۔موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر "علامہ اقبال کا کشمیر ” کے عنوان سے ایک مستقل اور فکر انگیز مضمون کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس مضمون میں قلمکار نذر حافی نے افسوس و حسرت کے ساتھ یہ بات منظرِ عام پر لائی ہے کہ مسلمانان ہند کو پاکستان اور مسلمانانِ ایران کو اسلامی انقلاب دینے والی دونوں عظیم ہستیوں یعنی حضرت علامہ محمد اقبال اور حضرت امام خمینی کا آبائی وطن کشمیر ابھی تک غلام ہے ۔ علامہ اقبال کے کشمیر سے عشق کو بیان کرتے ہوئے علامہ کے اشعار سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔مثلاً
سامنے ایسے گلستان کے کبھی گھر نکلے
حبیب خجلت سے سر طور نہ باہر نکلے
ہے جو ہر لحظہ تجلی گاہ مولائے خلیل
عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے
فاضل مضمون نگار نے اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ دیا ہے کہ اگر علامہ اقبال کے افکار ونظریات کو سامنے رکھا جائے تو جس طرح علامہ اقبال مسلمانان ہند کے کے لیے مصور پاکستان تھے اسی طرح وہ مصور کشمیر بھی ہیں۔
ان کے بعد مرحوم ثاقب اکبر کا ایک انتہائی اہم اور تحقیقی مضمون بھی اس میگزین کی زینت بنا ہے۔ اردو زبان میں اس موضوع پر یہ اپنی نوعیّت کا پہلا مضمون ہے۔ مضمون کا عنوان ہے ” حضرت امام خمینی بطورِ کشمیری” ۔ مرحوم ثاقب اکبر صاحب نے لکھاہے کہ امام کے تیرہویں جد اعلی سید حیدر موسوی اردبیلی کردی المعروف سید بزرگ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ ان کی ہجرت کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ سید حیدر موسوی معروف عالم، مبلغ اور عارف میر سید علی ہمدانی کے بھانجے اور داماد تھے۔ انہی کے فرمان پر انہوں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ میر سید علی ہمدانی نے ایک وفد تشکیل دیا اور سید حیدر موسوی کو اس کا سربراہ بنایا اور تبلیغ اسلام کے لیے کشمیر روانہ کر دیا۔ سید حیدر موسوی خود بھی ایک عالم اور عارف تھے۔ ان کی دو تالیفات کا ذکر ملتا ہے ایک "نفحۃالعرفان” جو عرفان کے موضوع پر تھی اور دوسری "ہدایۃ المستشرقین” جو عقائد کے موضوع پر تبلیغی مقاصد کے لیے لکھی گئی تھی۔
https://b2n.ir/s47924
سید ثاقب اکبر کی تحقیق کےمطابق سید حیدر موسوی ﴿سید بزرگ﴾ کی لکھنؤ میں ایک ایرانی تاجر سے دوستی ہوگئی۔ سید احمد کی شادی اس ایرانی تاجر کی دختر سے ہوئی۔ لکھنؤ سے وہ دوسری مرتبہ پھر کشمیر گئے ۔ اس دوران کشمیر میں فرقہ وارانہ اختلافات پھوٹ پڑے۔ تکفیریوں نے سرینگر میں سات سو سے زیادہ شیعوں کے گھر جلا دیے۔ "سید بزرگ” بھی ان فسادات میں زخمی ہوگئے، وہاں سے انھیں لکھنؤ لایا گیا، جہاں وہ وفات پا گئے اور انھیں لکھنؤ ہی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خاندان کے لیے اب کشمیر میں رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ دوسری طرف ایک ایرانی تاجر کے ذریعے ان کی عزیزداری ایک ایرانی خاندان سے قائم ہوچکی تھی۔ بعید نہیں کہ اسی خاندان نے انھیں عتبات عالیہ کی طرف ہجرت کی تجویز دی ہو نیز سید احمد سے نجف اشرف میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہا ہو۔ جہاں پہلے ہی عربوں کے علاوہ ایرانی اور ہندی طلاب موجود تھے۔
میگزین میں ۵ اگست کی اہمیت کے حوالے سےمحترم منظوم ولایتی کا کالم بھی شائع ہواہے۔ منظوم ولایتی کا موقف ہے کہ ہمیں 5اگست کو بھرپور طریقے سے یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہیے ۔اس روز اپنے بچوں کو مختلف انداز میں کشمیر کی تاریخ ازبر کرانی چاہیے۔ہمارے بچے ہمارا بھی اور کشمیر کا بھی مستقبل ہیں۔
فاضل محقق محمد حسن جمالی کا ایک کالم "مسئلہ کشمیر اور سرد مہری کے محرکات” بھی پڑھنے کو ملا۔ وہ اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ضروری ہے اس کے خالص انسانی اور قانونی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور ہر عام و خاص کو یہ باور کروایا جائے کہ کشمیری مسلمانوں کا دفاع ہر منصف مزاج انسان اور مسلمان کی زمہ داری ہے۔
میگزین کےدسویں صفحے پر رائے یوسف رضا دھنیالہ کا مسئلہ کشمیر کے عینی شاہد کے طور پر ایک جاندار تبصرہ شائع ہوا ہے جوکہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں محترم رائے یوسف رضا دھنیالہ نے اپنے آنکھوں کے سامنے مسئلہ کشمیر پر ہونے والی کاوشوں کو بیان کیا ہے۔
آگے چل کر جناب اشرف سراج گلتری نے اپنے کالم ہماری بقا اور کشمیریوں کی آزادی کے عنوان سے ہماری توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ کشمیری خواتین اور بچے ویڈیو پیغامات میں چیخ چیخ کر عالمی اداروں کو پکار رہے ہیں اور کوئی بھی ان کی آہ و بکا پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ۔
یوں تو یہ سارا میگزین ہی منفرد ہے۔ تاہم اس کی ایک خاص انفرادیت حافظ منور علی صاحب کا مضمون بھی ہے۔ حوزہ علمیہ قم المقدس میں انہوں نے پہلی مرتبہ جہادِ کشمیر پر نقلی و عقلی استدلال کیا ہے۔ ان کے مضمون کا عنوان "جہاد کشمیر اسلامی متون کی کسوٹی پر” ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سورہ حج کی آیۃ 29و 30 سے معلوم ہوتا ہے کہ جن پر ظلم کیا جائے ان کو دفاع کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح ہر عقل مند اور سالم فطرت انسان یہی چاہتا ہے کہ جب اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ اپنی بقاء کے لئے دفاع کرے۔
اسکے بعد اس مجلے میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم و صدائے کشمیر فورم کے تحت "جہان اسلام کے فراموش شدہ موضوعات” کے عنوان پر ہونے والے آنلاین سیشنز میں کے مہمانوں کے تجزیّات بھی قلمبند کیے گئے ہیں ۔
ان تجزیات میں سے چند ایک آپ قارئین کے لیے بیان کرتا چلوں۔ تیسرے آنلاین سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامک اسکالر احمد میر کشمیری نے کہا کہ "اسلامی تمدن اور تہذیب وثقافت کی روح مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت ہے۔ظلم یمن میں ہو یا کشمیر میں اسکے خلاف بولنا یہ مسلمان ہونے کی علامت ہے۔”
معروف اسکالر اور تجزیہ نگار ڈاکٹر ندیم بلوچ (پاکستان)نے اپنے تجزیے میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت پر زور دیا اور O.I.C اور اسلامک ممالک کی ناکامیوں اور بے بسی پر بھی سوالات اٹھائے ۔پاکستانی حکمرانوں اور حکومتوں کی ناکام سفارتی پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے دفاع و سلامتی کا مسئلہ ہے لہذا اسے کسی حکومت یا پارٹی یا کمیٹی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے ۔
ڈاکٹر ابو مریم نے آنلاین سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ اسرائیل کے لیے کشمیر بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا فلسطین ہے۔اسی لیے اسوقت ہندوستان اور عرب ممالک کے توسط سے اسرائیل بھی مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔
ایک سیشن میں جناب عبد المناف غلزی (جرمنی) مدیر مجلہ پیغام نجات نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس مسئلے کو غیر مسلموں کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اس کا حل بھی چاہتے ہیں۔
4جنوری 2021 سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی طرف سے قم المقدس میں کروائی جانے والی کشمیر کانفرنس میں پاکستان سے مرکزی امیر جماعت اہل حرم مفتی گلزار احمد نعیمی نے جو آنلاین خطاب کیا تھا وہ بھی میگزین میں درج کیا گیا ہے۔ مفتی صاحب نے وحدت اسلامی ، اسلامی میں آزادی کی اہمیت اور کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے حوالے سے انتہائی جامع اور جاندار گفتگو کی ہے ۔
اسی طرح پاکستان جمہوری اتحاد پارٹی کے سربراہ جناب ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اگر آپ مسائل کا حل چاہتے ہیں تو جمہوریت کو اسی کی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ کریں، اسلامی دنیا کے ڈکٹیٹر حکمران سامراج کے غلام ہیں اور مسائل کا حل نہیں چاہتے۔

ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے ایک سیشن میں اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئےوحدتِ اسلامی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیریوں کو مواد و ایندھن فراہم کرنے والے اہل تشیع اور اہل سنت دونوں میں موجود ہیں، انہیں ہمیں اپنی صفوں سے نکالنا ہوگا۔
پاکستان کے معروف صحافی اور تجزیہ کار جناب سمیع اللہ ملک نے ایک سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ برائے نام کھڑے ہیں ،ہمیں عملاً اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دینا چاہیے ۔تاجرانہ سوچ کے ساتھ مجاہدانہ فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کو جہاد اور جہاد کو اتحاد کی ضرورت ہے۔
جناب محمد فاضل تبسم کہتے ہیں کہ کشمیر کاز کے لیے سوشل میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ آزاد کشمیر کے معروف شاعر، دانشور اور سابق بیوروکریٹ اکرم سہیل صاحب نے اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے گرینڈ مکالمے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کمزور ممالک اپنے فیصلے خود نہیں کرسکتے اور دوسروں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ ان کے مسائل حل کریں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری کچھ غلط پالیسیاں بھی ہیں۔ ہم تین جنگیں کرچکے ہیں، لیکن مسئلے کا حل نہیں نکلا۔ اب ہمیں مذاکرت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیئے۔ کم سے کم گفتگو اور ڈائیلاگ کا رستہ تو کھلا رکھنا چاہیئے۔ ماضی میں بہت سے ایسے مواقع آۓ کہ جب مسئلہ کشمیر کا باعزت طریقے سے حل نکل سکتا تھا۔ ان میں سے ایک موقع وہ تھا کہ جب واجپائی پاکستان آۓ اور چناب فارمولہ پیش کیا گیا تو کارگل کا مسئلہ کھڑا کر اسے سبوتاژ کر دیا گیا۔
پھر بعد ازاں خود جنرل مشرف اسی رستے پر چلتے نظر آۓ لیکن پیچیدہ طریقے سے۔ انہوں نے جو چار نکاتی حل پیش کیا تھا، وہ بھی قابل غور تھا۔ خورشید محمود قصوری نے کہا تھا کہ اگر مشرف چھ مہینے اور باقی رہ جاتے تو یہ لاگو ہو جانا تھا۔ سب فریقین کی میزوں پر اس کی کاپی موجود تھی اور صرف سائن ہونے باقی تھے، لیکن پھر نام نہاد عوامی وکلا انقلاب کے ذریعے پرویز مشرف کو چلتا کر دیا گیا۔ اب جب سے مودی آیا ہے، صورتحال گھمبیر ہو گئی ہے۔ ہماری اپنی زبانیں خاموش ہیں تو دوسروں نے کیا آواز اٹھانی تھی۔ جب او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس عرب امارات میں ہوا تو اس وقت ششما سوراج بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ ہم اپنی پچھلی ستر سالہ پالیسیوں پر غور کریں اور عظیم مکالمے اور ڈائلاگ کا اہتمام کریں۔آج ہم ستر سال پہلے والی پوزیشن سے بھی ڈیڑھ سو سال پیچھے چلے گئے ہیں۔
آزاد کشمیر کے معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر نثار ہمدانی صاحب نے ایک سیشن میں بڑی اہم بات کی، انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو کشمیری تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں اور دوسری طرف کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا اصلی فریق ہی نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے میں پیشرفت کیلئے خود کشمیریوں کو اس مسئلے میں ان کا جائز حق دیا جانا ضروری ہے۔اسی سیشن کے دوسرے مقرر ماہر تعلیم سید افتخار کاظمی صاحب تھے، انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی امید دلا کر پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم خود اپنی حالت کو نہیں بدلتے اس وقت تک ہم پر دباو ڈال کر کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے۔
جناب محمد بشیر دولتی نے "اقوامِ متحدہ اور یومِ کشمیر ” کے عنوان سے انتہائی اہم کالم لکھا ہے۔ اپنے کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر 74سالوں سے حل نہیں ہو رہا ہے ہمیں اقوام متحدہ سے کشمیر ڈے منانے کی اپیل کرنی چاہیے اور ہمیں اپنے ایام کو شعوری اور منطقی طور پر عالمی سطح پر منانے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
میگزین میں مشہور و مقبول کشمیری رہنماء اور اتحاد بین المسلمین کے داعی مولوی محمد عباس انصاری مرحوم کی یاد اور خدمات کے حوالے سے بھی ایک خصوصی کالم شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کی تاریخ، مشاہیر، سیاست، ادب اور تمدّن کے حوالے سے وہ بہت کچھ اس میگزین میں موجود ہے جو کوئی بھی محقق جاننا چاہتا ہے۔ اس شش ماہی مجلے کے آخر میں یادگار لمحات کی مختصر تصویری رپورٹ بھی چھاپی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس مجلے کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی برادری اور عالم اسلام دونوں ہی مسئلہ کشمیرپر سردمہری کے شکار ہو چکے ہیں۔ اس مجلے کے آغاز سے اُردوزبان حلقوں میں نہ فقط مسئلہ کشمیر بلکہ جہان اسلام کے دیگر فراموش شدہ موضوعات کو بھی ایک نئی زندگی ملے گی ۔ زندگی کا ذکر آیا ہے تو حضرت امام حسینؑ کے اس جملے کے ساتھ میں اپنی تحریر کو ختم کرنا چاہوں گا:
"میں ظالموں کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار سمجھتا ہوں”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے