Input your search keywords and press Enter.

علامہ تصور جوادی کی مخلصانہ خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. نذرحافی

فروری ۲۰۱۷ میں علامہ تصور جوادی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ انہیں چار گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کے گلے میں لگی۔ خداوندِمتعال نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ اس حملے کے بعد ان کی صحت تو شدید متاثر ہوئی لیکن ان کے خلوص، جذبے اور دینی و نظریاتی فعالیت میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آج مورخہ تیرہ جون 2023 کو ان کی وفات کے موقع پر سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل نذر حافی نے سپورٹ کشمیر میگزین کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید تصور جوادی ایک تنظیمی اور متحرک شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی سیاسی و اجتماعی بصیرت اور دوراندیشی ہم سب کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے علامہ تصور جوادی پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کی عدم گرفتاری کے بارے میں کہا کہ اب وہ اپنا مقدمہ لے کر خدا کی بارگاہ میں چلے گئے ہیں۔ یقینا خدا ظالموں، ان کے سرپرستوں اور ان کے سہولت کاروں سے انتقام لے گا۔ ان کے مطابق علامہ جوادی اس قاتلانہ حملے کے بعد اپنی تنظیمی زندگی، دینی فعالیت اور قومی خدمات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دنیا سے ہم سب نے جانا ہے، یہ مہم نہیں البتہ یہ مہم ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جانے والا کس راستے پر گامزن تھا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ سید تصور جوادی نے اپنے قول و فعل کے ساتھ بھرپور طریقے سے اپنا دینی، سیاسی، تنظیمی اور متقی و مومن ہونا ثابت کیا ہے۔ ان کی وفات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ علامہ جوادی جیسی شخصیات اپنی خدمات کے باعث ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور ان کی خدمات اور ان کے راستے کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اب علامہ جوادی کے چاہنے والوں، تنظیمی دوستوں اور عزیزواقارب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ علامہ کے مشن کو بطریق احسن جاری رکھیں۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے پسماندگان، لواحقین اور عزیزواقارب نیز تنظیمی دوستوں سے اظہار تعزیت بھی کیا اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر مخلص، دیندار اور تنظیمی انسان غمگین ہے خصوصا اہالیان کشمیر کیلئے آج کا دن انتہائی دکھ اور غم کا دن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے