عالمی برادری غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو رکوائے۔ پارہ چنار کو غزہ بننے سے بچایا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے بھی غزہ بنا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مقامی کشمیریوں کی تجارت، امپورٹ ایکسپورٹ، باغات، فصلیں ، کاروبار سب کچھ تباہ کر دیا گیا ہے۔آزادی بیان نام کی کوئی چیز نہیں، منشیات کو عام کیا جا رہا ہے اور جگہ جگہ فحاشی کے اڈّے قائم کر دئیے گئے ہیں۔ جو رویّہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کا ہے وہی کشمیریوں کے ساتھ ہندوستان کا ہے ۔ پارہ چنار کو غزہ بننے سے بچانا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ پاکستانیوں کو آزادی کی نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے اڑتالیسویں آنلائن سیشن سے تجزیہ کاروں کی گفتگو۔
تفصیلات کے مطابق آنلائن سیشن سے جناب ڈاکٹر احمد میر کشمیری اور سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل نذر حافی صاحب نے گفتگو کی۔ نظامت کے فرائض محترم رفیق انجم نے انجام دئیے جبکہ سیشن کی کوارڈینیشن جناب منظور حیدری نے کی۔ تلاوت قرآن کے دوران محترم تنویر مطہری نے جہاد و شہادت کے متعلق آیات اور ان کا ترجمہ پڑھ کر ایک سماں باندھ دیا۔ ان کے بعد میزبان رفیق انجم نے ڈاکٹر احمد میر کشمیری سے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے انتہائی مفصل انداز میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی غزہ کے شہدا اور زخمیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں انسانی حقوق کا کہیں بھی احترام نہیں۔ طاقتور کے سامنے اخلاقی بھاشن کی کوئی حیثیت نہیں۔ ساری دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کی مدد کیلئے ہتھیار، ٹیکنالوجی، اور فوج بھیج رہی ہیں جبکہ مسلمان آٹے اوردوائیوں تک محدود ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کُشی پر سارے علم کُفر نے ایکا کر لیا ہے۔ مسلمان ممالک بے حسی اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ غزہ میں جاری ہولناک بمباری سے بھی اگر ہم بیدار نہیں ہوتے تو ہمیں اپنے انسان ہونے پر شک کرنا چاہیے۔ ان کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا اور سپورٹ کشمیر فورم کے ترجمان نذر حافی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب مشرق و مغرب میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور فلسطین کومٹانے کی سازشیں عروج پر تھیں تو ایسے میں حماس نے بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ قربانیاں دے کر اپنی مادرِ وطن کو دنیا کے نقشے سے ختم ہونے سے بچا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کیلئے صرف قربانی کافی نہیں بلکہ بروقت قربانی ضروری ہے۔ حماس نے بروقت قربانیاں دے کر استعماری طاقتوں کے سارے نقشے پر پانی پھیر دیا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کا یہ خون اقوام متحدہ اور او آئی سی کے دامن پر ایسا دھبّہ ہے جو کبھی بھی نہیں مٹے گا۔ چند سوالات کے جوابات میں انہوں نے کہا کہ پارہ چنار کو غزہ بننے سے بچایا جائے۔پاکستانیوں کو آزادی کی نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمارے پالیسی ساز اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
