برصغیر کی تاریخ میں 27 اکتوبر، 1947ء وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے غیر قانونی طور پر جموں وکشمیر میں اپنی فوجیں اُتار کر ریاست کے ایک بڑے حصے پر جبراً قبضہ کر لیا تھا جسے اب 76 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
اِس مناسبت سے دنیا بھر کی طرح فرانس میں بھی تارکینِ وطن پاکستانیوں اور کشمیریوں نے دارالحکومت پیرس میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ پاکستان ایمبیسی پیرس نے بھی سفارت خانے میں اس موقع پر منعقدہ تقریب میں فرانس میں موجود پاکستانی و کشمیری خواتین وحضرات کو مدعو کر رکھا تھا۔
فرانس میں پاکستان کے سفیر جناب عاصم افتخار، سٹیج سیکرٹری احسان کریم اور سفارتکار احسان جہلمی نے اپنے خطابات میں ریاستِ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور وہاں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کو احساس دلایا کہ تارکینِ وطن بھی اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں، لہذا وِیٹو پاور کے حامل یورپ کے ایک بڑے ملک فرانس میں رہتے ہوئے ہم سب کو یورپی عوام اور یورپی یونین تک مظلوم کشمیریوں کی آواز پہنچانے کی ضرورت ہے کیونکہ آج کے زمانے میں عالمی رائے عامہ کو ہموار کرکے ہم ہندوستان کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست میں استصواب رائے کرانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
سفارتکار احسان کریم نے اس موقع پر صدرِ پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور وزیرِ خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پچھلے پچہتر سالوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پہ موجود قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی منشأ کے مطابق حل کروا کے جنوبی ایشیأ میں امن کو یقینی بنایا جائے۔
سفارتکاروں نے فلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ فریقین کے مابین فوری جنگ بندی کروا کر اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے ورنہ مشرقِ وسطیٰ میں کبھی امن قائم نہیں ہو پائے گا۔
دوسری طرف پاکستانی اور کشمیری تنظیموں کی طرف سے بھی پیرس میں بھارتی قبضے کے چھہتر سال مکمل ہونے پر 27 اکتوبر کو بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سخت بارش کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مظاہرین کے نعروں سے پیرس کی فضائیں گونجتی رہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کشمیری پرچم، بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ہندوستان کے کشمیری عوام پر ظلم وستم کو نمایاں کیا گیا تھا۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ماجد چیمہ، صاحبزادہ عتیق الرحمن، چوہدری نعیم، مرزا آصف جرال، محمد قاسم جرال، ذوالفقار نگیال، سردار ظہور اقبال، ملک عابد، زاہد ہاشمی، یاسر قدیر و دیگر مقررین نے مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر پر بھارت کے چھہتر سالہ فوجی قبضے کے دوران کشمیریوں کی نسل کشی، مسلمان عورتوں کی عصمت دری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کشمیر اس وقت ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور اگر یہ مسئلہ پُرامن طور پر جلد حل نہ ہوا تو دو ہمسایہ ایٹمی ممالک؛ ہندوستان وپاکستان کے مابین آئندہ ہونے والی جوہری جنگ جنوبی ایشیاء کی دو ارب آبادی کو ہی تباہ نہیں کرے گی بلکہ اس کے تابکاری اثرات سے کرۂ زمین کا ماحول سخت آلودہ ہو جانے سے پوری دنیا موسمی تبدیلیوں کی لپیٹ میں آ جائے گی، لہذا سیارہ زمین پر انسان کے وجود اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ برصغیر میں پائدار امن قائم ہو جو کہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط ہے!
مقررین نے ویٹو پاور فرانس، یورپی یونین اور عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں دہشت کی جو فضا قائم کر رکھی ہے اس سے نجات دلانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے تاکہ سوا کروڑ انسان اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کے دئیے ہوئے حق کے مطابق خود کر سکیں۔
فرانس میں موجود پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے پیرس کے سٹَیلِنگ گارڈ علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے کشمیر کے بھارت میں انضمام کی کوشش کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین قرار دیا کیونکہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ حل طلب مسئلہ ہے جس پہ متعصب مودی یکطرفہ طور پر کسی قسم کا فیصلہ کرنے کا ہرگز مجاز نہیں!
کشمیر پر 76 سالہ بھارتی قبضے کے خلاف فرانس میں مظاہرے! مغرب میں مُشاہدات! نوید طالب بٹ، فرانس
