11 دسمبر 2023ء کو بھارتی سپریم کورٹ کی طر ف سے آرٹیکل 370 کی حمایت میں متنازعہ فیصلے کے بعد پانچ فروری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے حالات پر ہر مسلمان غمزدہ ہے۔ طوفان الاقصی نے مسئلہ فلسطین کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق باقرالعلوم مرکز تحقیقات کے کانفرنس ہال میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تحریک آزادی کشمیر اور 5فروری کے دن کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ اراکین فورم نے کہا کہ یہ دن اقوام متحدہ کو کشمیر کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں مسئلہ کشمیر کو کم رنگ نہیں ہونا چاہیے۔
5فروری یوم حق خود ارادیت کشمیر کی مناسبت سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے اس میں مسئلہ کشمیر ہونے والی تحقیقات اور مطالعات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں محققین نے کہا کہ
اس وقت ریاست مقبوضہ کشمیر دنیا کی ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور دفعہ 370 اور35اے کے خاتمے اور پھر بھارت کی سپریم کورٹ کے جانبدارانہ فصیلہ نے بھی اقوام متحدہ اور پاکستان کی زمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی جاری بحران میں مسئلہ کشمیر کو کم رنگ نہیں ہونا چاہیے اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی 5 فروری کو ملک میں بھرپور طریقے سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا جانا چاہیے۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے اجلاس کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی تھے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے کہا کہ عوام ان انتخابات میں بھرپور شرکت کریں، یہ انتخابات ساری ملت پاکستان اور کشمیری بھائیوں کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
فورم سے نذر حافی، منظوم ولایتی، بشیردولتی، تنویر مطہری و دیگر شرکاء نے بھی گفتگو کی۔
عوام انتخابات میں بھرپور شرکت کریں، یہ انتخابات ساری ملت پاکستان اور کشمیری بھائیوں کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر شفقت شیرازی پاکستان کے داخلی مسائل میں مسئلہ کشمیر کو بھولنا نہیں چاہیے۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
