11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا۔ انقلاب سے پہلے کشمیر کے بارے میں شاہ ایران کا وہی موقف تھا جو اس کے آقا امریکہ اور انگلستان کا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی بہت بڑی تبدیلی آگئی کیونکہ یہ انقلاب ایک عام انقلاب نہ تھا بلکہ ایک خالص دینی آئیڈیالوجی کا انقلاب تھا جس کی وجہ سے سارے دین مخالف قوتیں خواہ ملکی ہوں یا بین الاقوامی سب کے سب اس نوخیز انقلاب کے خلاف سرگرم عمل ہوگئیں۔ اس انقلاب کا نصب العین اور نعرہ پہلے روز سے ہی بہت واضح اور کلئیر تھا، نہ کسی سپر طاقت سے خوفزدہ اور نہ ہی کسی کی دشمنی سے ہراساں تھا بلکہ مستضعفین جہاں، خواہ وہ سنی یا شیعہ، مسلمان ہو یا غیر مسلم، ایشیائی ہو یا یورپی سب کی حمایت اور مدد کو اپنا نصب العین بنایا۔
مسئلہ کشمیر بھی انہی کہن مسائل میں سے ایک تھا جس کے بارے میں ایرانی انقلابی حکومت نے دوٹوک موقف اختیار کیا۔ اسلامی انقلاب کے پہلے رہبر آیت اللہ خمینی نے مسئلہ کشمیر کو مسئلہ فلسطین کے برابر قرار دیتے ہوئے عالم اسلام پر زور دیا کہ ان دو مسئلوں کی فوری حل کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں۔
آیت اللہ خمینی کے بعد آنے والے ایرانی رہبر سید علی خامنائی نے بھی کشمیر کے بارے میں کئی بار واضح بیان کے ذریعے ہندوستانی حکومت کو غاصب اور ستمگر قرار دیا ۔
آیت اللہ خامنائی نے 11ستمبر 1994 کو اس وقت کے پاکستانی صدر سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے متعلق فرمایا:
«کشمیر کا مسئلہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک انسانی اور اسلامی مسئلہ ہے کیونکہ کشمیری مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے اور ہم نے ہمیشہ مختلف محافل میں کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں ہندوستانی حکومت کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور آئندہ بھی اپنے واضح موقف کا اظہار کرتے رہیں گے»
12 اپریل 2001ء میں آیت اللہ خامنائی نے انڈیا کے پرائم منسٹر سے ملاقات میں کشمیر کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا:
«ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ مسئلہ کشمیر وہاں کے باسیویوں کے حقوق اور منافع کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری حل کریں تاکہ وہاں کے لوگ سکون و اطمئنان سے زندگی گزار سکیں»
25 مئی 1990ء کو تہران میں منعقدہ اہل بیت کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنائی نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں فرمایا:
« جو شخص کشمیر کی تاریخ اور اس مسئلے سے مطلع ہو وہ جانتا ہے کہ کشمیری مسلمان اپنی تحریک آزادی میں حق بجانب ہیں اور جو لوگ ان کو خوف و دہشت کے ذریعے سے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں سراپا غلط ہیں۔ جو لوگ کشمیریوں پر حملے کر رہے ہیں وہ ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مسئلے میں دنیا بے حس اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے»۔
ایران کے سپریم لیڈر نے 9 دسمبر 1997ء کو منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک اسلامی ممالک کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے بارے میں فرمایا:
« سب سے بری بات یہ ہے کہ ایک طرف اسلامی ممالک پر دشمنوں کا ثقافتی یلغار اور کبھی سیاسی تسلط ہے تو دوسری طرف مسئلہ فلسطین، افغانستان، لبنان، عراق، کشمیر، بوسنیا اور ہرزیگووینا، قفقاز جیسے بڑے مسائل میں گرفتار ہیں تو الٰہی ذمہ داریوں کی ایک طویل فہرست ہے جو حکومتوں، سیاسی شخصیات اور عالم اسلام کے رہنماؤں سے فوری حل کا تقاضا کر رہی ہے»
آیتالله خامنائی نے 13 جون 1991ء کو اپنے حج کے پیغام میں مسئلہ کشمیر کے متعلق اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:
«اگلا مسئلہ کشمیر میں مسلمانوں کی صورتحال ہے، ہندوستان کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں عالم اسلام کی توجہ نہ ہونے کی فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے تحریک آزادی کے جوانوں اور مظلوم بھائیوں کی جد وجہد آزادی کو طاقت کی زور پر کچلنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ عوام کی رائے کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق ان کی جان و مال اور یہاں تک کہ ان کی عزتوں پر بھی حملہ کیا گیا اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ ان پرانے زخموں میں سے ایک ہے جو برطانوی استعمار نے ہندوستان سے انخلاء کے دوران برصغیر کے مسلمانوں کےجسم پر لگائے تھے۔ اس کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے عظیم مسلمانوں سے انتقام لیا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت اور نامناسب طریقے استعمال کیے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ بڑی حکومتیں اور جو تنظیمیں انسانی حقوق کا دعویٰ کرتی ہیں وہ بھی مسلمانوں کا دفاع نہیں کریں گی۔ ہندوستان نے غیر انسانی طریقوں کا سہارا لیا ہے۔
مسلم امہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیری، مسلمان آپ لوگوں سے حمایت کی امید رکھتے ہیں اور یہ مسلمانوں کا اسلامی اور برادرانہ فرض ہے۔ اگر ہندوستانی حکومت یہ سوچ لے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے کسی ردعمل کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر سکتی ہے اور ہمیشہ اپنا دباؤ جاری رکھ سکی گی تو یقیناً سخت غلطی پر ہے»۔
ایران کے روحانی پیشوا سید علی خامنائی نے 14 اپریل 2018ء کو ایرانی حکومتی عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
《ہم امید کرتے ہیں کہ ملت ایران، ملت شام، ملت عراق، ملت فلسطین، ملت کشمیر اور میانمار کی قوم اور دنیا کے ان تمام خطوں میں جہاں مسلمان ظلم کے سائے میں زندگی کرنے پر مجبور ہیں انشاء اللہ کامیابی حاصل کریں گے۔ وہ دن دور نہیں جب خدا کے وعدے کے مطابق وہ دشمنوں کو پیچھے دھکیلنے کے قابل ہو جائیں گے»
رہبر انقلاب اسلامی نے 10 جنوری 2018ء کو اسلامی تعاون تنظیم کی انٹر کونسل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
《۔۔۔ کشمیر کا مسئلہ ایک مسلمہ اور دیرینہ مسئلہ ہے۔ مومنین اور مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ ہمیں عالم اسلام کے بنیادی مسائل، عالم اسلام کے اہم ترین مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے۔ اگر ہم صاف گو رہیں تو ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے ».
3 جولائی 2017ء کو ایران کے مرشد اعلی نے اپنے سپریم کورٹ کے ججوں سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیریس ہو کر قانونی لائحہ عمل طے کرنے کا حکم دیا:
«عدلیہ کو پابندیوں، امریکیوں کی ضبطگی، دہشت گردی، یا شیخ زکزاکی جیسی دنیا کی مظلوم شخصیات کی حمایت، یا میانمار اور کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت جیسے معاملات میں قانونی حیثیت سے داخل ہونا چاہیے، اور اپنی رائے کا مضبوطی سے اعلان کرنا چاہیے تاکہ دنیا تک یہ پیغام منتقل ہوسکے »
یہ وہ بیانات ہیں جو عالم اسلام کی اس شخصیت نے دیے ہیں کہ جس کا ملک 40 سالوں سے بدترین اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ دنیا کی اکثر سپر طاقتیں ان کی حکومت کو ایک لحظے کے لیے برداشت کرنے کو تیار نہیں لیکن تمام تر سختیوں اور پابندیوں کے باوجود بے خطر کشمیر کاز کی حمایت کرنا، اس انقلابی آئیڈیالوجی کا مرہون منت ہے جو کربلا کے تپتے صحرا سے ہم تک منتقل ہوئی ہے۔
