Input your search keywords and press Enter.

*آج کی بات* سپورٹ کشمیر۔۔۔۵۶ واں سیشن

تحریر:منظوم ولایتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اپنے وجود میں ایک تحریک ہے۔ اس کے 56ویں سیشن میں ایک مرتبہ پھر مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کیلئے آواز اٹھائی گئی۔ یوم القدس کے روز یہ آنلائن سیشن بہت خاص اہمیّت کا حامل تھا۔سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مختلف آرا کی جمع آوری کرتا ہے اور اس ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات و شبہات کے جوابات تلاش کرتا ہے۔ اس فورم کا ایک خاص مقصد استعماری، غاصب اور جارح قوتوں کے پروپیگنڈوں کا جواب دینا ہے۔

دنیائے اسلام کے یوں تو کئی فراموش شدہ موضوعات اور توجہ طلب مسائل ہیں لیکن دو بڑی سطح کے مسئلے فوری تصفیہ طلب ہیں۔ ایک قضیہ فلسطین اور دوسرا مسئلہ کشمیر۔ ایک میں یہودی مظالم ڈھا رہے ہیں اور دوسرے میں ہنود۔ یہود و ہنود ہر دو کا نشانہ مسلمان ہیں۔ ظالم کے خلاف آواز اٹھانا انسانیت کا تقاضا ہے۔ اس کے لیے کسی دیں و مذہب و مکتب کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ البتہ بحیثیت مسلمان ہماری بلکہ مسلم لیڈرز کی ذمہ داری دوچند ہے۔

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اس حوالے سے ایک عرصے سے فعال ہے۔ عالم اسلام کے اجتماعی مسائل پر اہل علم و فکر اس فورم کے زیرانتظام سیمینار، کانفرنسز اور سیشنز میں سوچتے، راہ حل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ کل رات ایک اسی سلسلے کی 56ویں نشست ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری خارجہ علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی صاحب تھے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں حالیہ فلسطین اسرائیل جنگ سے متعلق تفصیل سے گفتگو فرمائی اور شرکاء نشست کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوم کے بعد قائم کیے جانے والے عالمی سطح کے اداروں کی حقیقت اب دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ یہ لوگ بچوں، خواتین اور انسانی حقوق کا ڈھونگ رچانے ہیں۔ غزہ میں ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ انسانی حقوق کی بدترین توہین کی جا رہی ہے جبکہ انہیں انسانی حقوق کے اداروں کے سربراہ اور سُپر طاقتیں غاصب صہیونی حکومت کے مظالم کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، ہر ممکنہ سطح پر اپنے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج، اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ مظلومین کا ہمنوا بن کر اس جنگ میں ہر شخص کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

مقاومت اور جہاد کا طریقہ کار یہی ہے کہ مظلوم خود ظالم کے مقابلے میں کھڑے ہو جائیں۔ چاہے فلسطین ہو یا کشمیر اور یمن ہو یا عراق، جہاں بھی مظلوم خود ظالموں کے خلاف کھڑے ہونگے، فتح انہی کی ہو گی۔

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اب تک متعدد دانشوروں اور اہم شخصیات کے انٹرویوز لے چکا ہے جن ایک میگزین کی شکل میں جمع آوری بھی کر دی گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس سیشن میں بھی سوچنے، سمجھنے، لکھنے اور بولنے والوں کیلئے وہ سب کچھ موجود تھا جس کی ایک معقول انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔

آخر میں شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال (رح) کے "فلسطینی عرب کے نام” کہے ہوئے نظم کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں:

تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگ جا پنجہ یہود میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے