Input your search keywords and press Enter.

اس وقت دباؤ میں فلسطین اور ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے,

رپورٹ: ابراہیم شہزاد

(سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم)
میرا تعلق پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان سے ہے۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے 56ویں سیشن کی میزبانی کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانا اس فورم کا خاصہ ہے۔
آج کے سیشن کا موضوع اہل غزہ کی مظلومیت تھی۔ ڈاکٹر شفقت شیرازی صاحب آج کے سیشن میں مہمان خصوصی تھے۔ نشست کا مقصد حالات حاضرہ خاص کر "غزہ جنگ کے امکانات اور خدشات” کا تجزیہ تھا۔
پروگرام ٹھیک 9:15 پر شروع ہوا ۔ تلاوت کلام الہی کا شرف برادر رفیق انجم صاحب نے حاصل کیا۔
ابتدا میں اہل غزہ کی مظلومیت پر مبنی مقدمہ باندھنے کے بعد
میں نے مائیکروفون معزز مہمان کے حوالے کر دیا۔
پہلا سوال ہماری جانب سے تھا کہ عالم اسلام کی بے توجہی اور بے بسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلم امہ فلسطین کاز کے حل میں مکمل ناکام ہوچکی ہے؟!
جواب میں ڈاکٹر صاحب نے نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ مسلم امہ نہ صرف فلسطین کاز کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہے بلکہ پس پردہ اسرائیل کی مدد بھی کر رہی ہے۔ چند ایک ممالک اور تنظیموں کے علاؤہ باقی کوئی بھی ملک، کوئی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا مفکر، کوئی بھی دین کے نام پر پلنے والا مولوی فلسطینی بھائیوں کے حق میں بولنے تک کے لئے بھی تیار نہیں۔ بلکہ آج کل تو ویڈیوز آ رہی ہیں جن میں نام نہاد مولوی ، خادم الحرمین الشریفین کے دعویدار یہ فرما رہے ہیں کہ اپنی دعاؤں میں حماس کی نابودی کے لئے دعائیں کیا کرو۔ مسلمانوں کی ذہنی سطح اس درجے پر ہے تو ان سے فلسطین کاز کے حل کی آس رکھنا ہی عبث ہوگا۔
فلسطین کاز کے لئے جو اسلامی ممالک اور تنظیمیں سنجیدہ تھیں وہ اب بھی اپنا کام بطور احسن انجام دے رہے ہیں۔ ایران، سوریہ، حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن پہلے بھی دشمن سے نبرد آزما تھے اب بھی ہیں۔ لہذا فلسطین کاز کو صرف "غیرت مند” مسلمان حل کر رہے ہیں۔
یوم القدس کی موجودہ صورتحال میں اہمیت کے بارے میں استفسار پر
قبلہ شفقت شیرازی صاحب نے تاریخ کے آئینے میں اس کی ضرورت اور آج کے دور میں اس کی اہمیت پر بھی مکمل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کے طاقتور ممالک نے اپنے مفادات کے آسان حصول کی خاطر کچھ قوانین وضع کیے۔ انہی خود ساختہ اصولوں کو دوسرے کمزور ممالک کو دبائے رکھنے اور ترقی سے دور رکھنے کے لیے بھرپور استعمال کیا۔ کوئی بھی ملک ان سے آگے نکلنا چاہے تو انہی قوانین کے شکنجے میں ڈال کر آگے بڑھنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا جاتا۔ ساتھ میں اپنے آپ کو انسانیت کا بڑا ہمدرد اور خیر خواہ بھی شمار کرتا۔ انسانی فلاح و بہبود کے خوبصورت نعروں کے ساتھ یہ ممالک اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے در پے ہوتے۔
فلسطین پر یہودی تسلط بھی انہی خوش نما نعروں کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ عرب دنیا نے کسی حد تک مزاحمت دکھائی اور پھر ان کے عیاش اور غیرت سے عاری حکمران اپنے ہی بھائیوں اور قبلہ اول کو بھول بھال کر اسرائیل کی کاسہ لیسی میں مصروف ہو گئے۔ فلسطین مسلم امہ کا مسئلہ تو کیا اب عرب دنیا کا مسئلہ بھی نہیں شمار کیا جاتا تھا۔ ایسے میں امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ نے رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ فلسطین کا فراموش شدہ قضیہ ایک بار پھر عالم اسلام کی فضا میں سر چڑھ کر بولنے لگا۔ یوں مسلمان ایک بار پھر اسلامی غیرت اور بیداری کی طرف گامزن ہوئے۔ یوم القدس کی اہمیت مسلمان معاشرے میں فلسطین کاز کے منطقی حل تک رہے گی۔ آج کل کی صورتحال میں اس دن کو منانے کی ضرورت تاریخ کے ہر موڑ سے زیادہ نظر آتی ہے۔

شرکاء میں سے ایک برادر کا نہایت دلچسپ سوال آیا تو ہم نے اس کو بھی ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں رکھ دیا۔ سوال یہ تھاکہ "کہا جاتا ہے کہ فلسطین پہلے یہودیوں کی سرزمین تھی۔ خلیفہ دوم نے آ کر اس پر قبضہ کیا۔ اب اگر یہودی اس پر دوبارہ قبضہ کرے تو اس میں کیا قباحت ہے؟! ڈاکٹر نے سے جواباً فرمایا کہ زمینوں یا جائیدادوں کی مالکیت افراد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ افراد اپنے عقائد و نظریات تبدیل کرنے میں بھی آزاد ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک عقیدے کو چھوڑ کر دوسرا کوئی عقیدہ اختیار کرے تو اس کی جائیداد اس کی نہیں رہے گی؟! بالکل رہے گی۔ خلیفہ دوم کے زمانے میں فلسطینی مسلمان ہوئے ہیں۔ فلسطینوں کی زمینیں فلسطینیوں کی تھیں۔ بس عقائد میں تبدیلی آئی تھی۔ فلسطینی مسلمان ہو چکے تھے۔ زمینیں ان کی اپنی تھیں۔ کوئی مکہ سے یا مدینہ سے جا کر ان پر قابض نہیں ہوا تھا۔ لہذا فلسطینی زمینیں نہ مکہ و مدینہ والوں کی ہیں اور نہ ہی یورپ والوں کی۔ فلسطین کی زمین صرف اور صرف فلسطین والوں کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ غاصب صہیونی ریاست جبراً آ کر گھس بیٹھی ہے۔ لہذا یہودیوں کی یہ گھس بیٹھنے کی حرکت قبیح ہے۔

ایک اور صاحب نے سوال پوچھا تھا کہ اسرائیلی پروڈکٹس کے استعمال پر کیا بیان کرنا چاہیں گے۔ اور سوشل میڈیا ایپس (جہاں یہودیوں کا تسلط ہے)کے استعمال پر آپ کی کیا رائے ہیں؟!
محترم شفقت شیرازی صاحب نے اسرائیلی پروڈکٹس کے بائیکاٹ کرنے کا تقاضا کیا۔ اور اسرائیلی پروڈکٹس کے علامات میڈیا پر آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ سوشل میڈیا ایپس کے استعمال کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کی رائے تھی کہ یہ ایپس اب اسلحے کی طرح ہیں۔ انہی ایپلیکشن کے ذریعے اسرائیلی بربریت کو دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں، انہی ایپس کے ذریعے ہم لوگوں میں شعور بیدار کر سکتے ہیں۔ انہیں ایپس کے ذریعے ہم اپنے مجاہد مسلمان بھائیوں سے اظہار ہمدردی کر سکتے ہیں۔ ان کے حوصلے بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے حق میں رائے عامہ بنا سکتے ہیں۔ لہذا ہمیں سوشل میڈیا کا درست استعمال کرنا چاہیے۔

ایک سامع کا سوال یہ بھی تھا کہ موجودہ حالات میں ایرانی قونصلٹ پر اسرائیل حملہ کر رہا ہے، مختلف طریقوں سے ایران اور دیگر مزاحمتی بلاک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایران کو اس وقت اسرائیل کے دباؤ کا شکار ہے؟!
آغا صاحب نے جواب دیا کہ اسرائیل اس وقت مزاحمتی طاقت کو دیکھ کر مکمل بوکھلا چکا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے اپنی مٹتی شناخت کو برقرار رکھے۔ اسی لئے وہ بغیر سوچے سمجھے حملے کرنے میں مصروف ہے۔ اسرائیل اور امریکہ تو حزب اللہ لبنان کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں۔ چہ برسد کہ ایران پر دباؤ ڈالا جائے۔ یہ استعماری طاقتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ایران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ان کے مد مقابل کھڑا ہے۔

شرکاء محفل میں سے ایک نوجوان کا یہ بھی سوال تھا کہ یہ قدس کے حوالے سے ہمارے ہر شہر میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ ان ریلیوں کا اس بڑے اور اہم مسئلے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟!
تو جواب دیا کہ یہ ریلیاں اصل میں عوامی رائے کا اظہار ہوتی ہیں۔ یہی ریلیاں دشمن کے جذبات کو پست کرنے اور مزاحمتی جوانوں کے حوصلے بلند کرنے میں کار فرما ہیں۔ یہی ریلیاں عوام الناس کو دنیا کے حالات کا صحیح افہام اور اپنے جذبات کی سمت معین کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہذا یہ ریلیاں ضروری ہے۔

آخر میں چونکہ موضوع "غزہ جنگ کے امکانات اور خدشات” تھا لہذا بندہ حقیر نے امکانات اور خدشات کے بارے میں سوال کیا تو محترم مہمان نے کہا کہ امکانات بہت سارے ہیں جس میں جغرافیائی اہمیت کے حامل جگہوں کا مقاومت کے ہاتھوں میں ہونا سر فہرست ہے۔ اس وقت دنیا کی مکمل باگ ڈور مقاومتی بلاک کے پاس ہے۔ چونکہ مقاومتی بلاک کے پاس کھونے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں لہذا کسی قسم کے خوف و ہراس کے بغیر یہ عالمی استکبار کو ناکوں چنے چبوانے میں مصروف ہے۔
انشاء اللہ ہم بہت جلد فلسطین کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

انہی سوالات کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ بندہ حقیر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ان سے اجازت چاہی۔
پروگرام کے آخر میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل نذر حافی صاحب نے بھی تمام شرکا اور مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے