سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی نے 13جولائی 1931ء کے شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تنازعہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد سے ایک بیان میں 1931ء کی تحریک کے مقامی کردار کو اجاگر کیا جس کا مقصد آزادی اور جمہوری نظام کا قیام تھا، لیکن 1947ء میں بھارت کے حملے اور غیرقانونی الحاق کی وجہ سے اس میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ فاروق رحمانی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کے حقوق کا سوال ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ بنانے کے بھارتی اقدام کی مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بنیادی تنازعے کے پرامن حل کے لئے دیانتداری سے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے 1931ء کے شہداء کی جدوجہد آزادی کے پہلے مشعل بردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی آزادی کی جدوجہد کو تحریک دیتی رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کے حقیقی مالک تسلیم کیے بغیر خطے میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔
فاروق رحمانی کا تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ
