سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی نے کہا ہے کہ بھارت کی ظالمانہ پالیسیاں کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے حوالے سے ان کا موقف تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان ڈاکٹر زبیر احمد، محمد فرقان، محمد اقبال شاہین اور سید حیدر حسین نے سرینگر میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے مقبوضہ علاقے میں 10 لاکھ کے قریب فورسز اہلکار تعینات کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں نے مقبوضہ علاقے کے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ مقبوضہ علاقے کو بھارت نے ایک بری جیل میں تبدیل کر کے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء میں جموں میں چار لاکھ سے زائد مسلمانوں شہید کیے گئے جبکہ بھارتی فوجیوں نے 1989ء سے اب تک 96ہزار سے زائد کشمیری شہید جبکہ ہزاروں لاپتہ کیے ہیں۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ نہتے لوگوں کے اس بڑے پیمانے پر قتل عام کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط سے آزادی کے مطالبے پر قائم اور تمام تر مشکلات کے باوجود شہداء کے عظیم مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے تنازعہ کشمیری کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کا وہی حل پائیدار ہو گا جس میں کشمیریوں کی مرضی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ترک کر کے مسئلے کے حل کیلئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے۔
بھارت کی ظالمانہ پالیسیاں کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام، سول سوسائٹی
