سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربندی کے سات 7 برس مکمل کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) نے شبیر احمد شاہ کو سات برس قبل ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر کے تہاڑ جیل منتقل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسیر پارٹی سربراہ کے خلاف سینکڑوں صفحات پر مشتمل فرد جرم دائر کی گئی ہے لیکن این آئی اے ان کے خلاف آج تک ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔ محمود احمد ساغر نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کی زندگی کا بیشتر حصہ بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزرا ہے اور انہوں نے اب تک مجموعی طور پر 38 برس 6 ماہ جیل کاٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دینے کی بات کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی وکالت کرتے ہیں جس کی باداش میں بھارت انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ محمود احمد ساغر نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کے ساتھ ساتھ مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد، فاروق احمد ڈار اور دیگر ہزاروں سیاسی قیدی عزم و ہمت کی ایک ناقابل فراموش تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی تمام انصاف پسند قوموں سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔
شبیر شاہ کے تہاڑ جیل میں نظر بندی کے سات برس مکمل
