Input your search keywords and press Enter.

جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے کیلئے پُرامید ہیں، عمر عبداللہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ مودی حکومت کو اسمبلی انتخابات سے پہلے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنا چاہیئے، کیونکہ انتظامیہ دہشتگردی سے نمٹنے سمیت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بحال ہوجائے گا کیونکہ یونین ٹیریٹری انتطامیہ ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنانے کا فیصلہ جموں میں ناکام ہوا ہے، یہ عسکریت پسندی کے خلاف ناکام ہے، یہ ترقی میں ناکام ہے، یہ ہر پہلو سے ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونین ٹیریٹری کا مطلب ہے کہ طاقت عوام کے پاس نہیں ہوتی، اقتدار عوام کے پاس نہیں ہوتا۔ تاہم یہ بہت مختصر مدت کے لئے ہے کیونکہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا۔

ڈوڈہ میں حملے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ پچھلے ایک سال سے جموں کے علاقے میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں میں شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جو عسکریت پسندی سے پاک ہو۔ پیر پنجال خطہ، چناب وادی، جموں، کٹھوعہ اور سانبہ میں حملے ہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ہماری جانکاری درست ہے تو ان حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 55 فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں، ایسی صورتحال میں ہم یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت عسکریت پسندی کو ختم ہونے کا دعوے کر رہی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے