سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و مرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ نواز راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ لاقانونیت کی بڑی وجہ حقدار کو اس کا حق نا ملنا ہے، ہمارا نظام تعلیم بے روزگار پیدا کر رہا ہے نوکریوں کے لیے کب تک نوجوان ایم ایل ایز کے در پر جاتے رہیں گے یہ بلیک میلنگ ختم ہونی چاہیے، نئی نسل کو ہنرمندی کی طرف لیجانا ہو گا جب نوکریاں میرٹ، اہلیت کی بجائے سفارش پر ملیں گی تو معاشرے میں کبھی سکوں نہیں ہو سکتا، پاکستان دنیا میں ہمارا واحد وکیل اور کشمیریوں کی امیدوں کا مرکز ہے، ہندوستان کشمیر پر جارح، غاصب اور قابض ہے جبکہ پاکستان ہمارا ہمدرد، حامی، مددگار اور دنیا میں واحد وکیل ہے۔ آزاد کشمیر کے اندر نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار یے، نوکری کی آس میں بیٹھے لوگوں کو امید دلانا ہو گی، سرکاری نوکری کو جب تک میرٹ سے مشروط نہیں کریں گے تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پرنسپل الصفہ کالج محمد الیاس، ممبر ضلع کونسل راجہ انور حسین، شیخ راشد علی زمان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سابق وزیراعظم نے شعبہ سکولز کے اندر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات و طلبا میں انعامات تقسیم کیے۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ پہلے خواندگی کا تصور اور تھا وہ زمانہ بیت گیا اب ہنر مندی کی ضرورت ہے، میٹرک کی تو اہمیت ہی ختم ہو گئی ہمیں بین الاقوامی مارکیٹ میں جانے کے لیے اپنے آپ کو پالش کرنا ہو گا، اپنے بچوں کو ہنرمندی سے لیس کرنا ہو گا۔ صحت اور تعلیم بنیادی چیزیں ہیں ان دونوں شعبوں میں ہمارے دور حکومت میں نمایاں ترقی ہوئی، تعلیم میں میرٹ لایا گیا، دس اضلاع میں ایمرجنسی سروسز ہزاروں نئی آسامیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو موبائل سے دور رکھیں اس سے گھر کے اندر مکالمہ ہی ختم ہو گیا ہے، اس کا استعمال درست کرنے کی ضرورت ہے، اس کا مثبت کے بجائے منفی استعمال زیادہ ہے، بچے جب ذہنی بلوغت کی سطح پر پہنچے تو ہی انہیں موبائل دیا جائے، ہم چلتے تو جا رہے ہیں مگر ہماری سمت کا تعین نہیں ہے، اخلاقی تربیت کی سکول اور گھر کے اندر کمی ہے جس کو دور کرنا ہو گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ خواتین آبادی کا نصف سے زائد ہیں، خواتین کو عملی میدان میں آگے لانا ہو گا، ہمارا مقابلہ ہندوستان سے ہے جو دنیا کو 8 کروڑ ہنرمند مہیا کرے گا ہم کہاں جائیں گی ہمیں اس کے مقابلے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
