چیئرمین جموں و کشمیر فورم فرانس، ممبر مرکزی مجلس عاملہ مسلم لیگ نواز و سابق کوآرڈینیٹر وزیراعظم آزاد کشمیر برائے یورپ چوہدری نعیم اختر نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ بار کو دہشتگرد قرار دینے اور ہائیکورٹ بار کے صدر نذیر رونگا، میاں عبدالقیوم ایڈووکیٹ اور سینئر وکیل و سابق سیکرٹری بار محمد اشرف بھٹ کو PSA ایکٹ اور دیگر بوگس مقدمات میں گرفتار کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں چوہدری نعیم اختر نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام پوری دنیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ چوہدری نعیم اختر نے اقوام عالم سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے وکلاء کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے اور بھارت پر عالمی پابندیاں لگائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے اور گجرات کا قصائی نریندر مودی مسلمانوں کا قاتل ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ بار کے صدر نذیر احمد رونگا سمیت دیگر سینئر وکلاء کو بھارتی حکومت نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جو کہ انتہائی افسوسناک عمل ہے، بھارتی حکومت ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کو ڈرانے دھمکانے سے گریز کرے اور صدر ہائیکورٹ بار نذیر احمد رونگا اور دیگر سینئر وکلاء کو فوری طور پر رہا کرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے ایک مزموم ایجنڈے کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، آئے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے کشمیریوں پر نریندر مودی ظلم و ستم کروا رہا ہے لیکن کشمیریوں کا حوصلہ پست نہیں کر سکا، کشمیری قوم بہادری کی نئی داستانین رقم کر رہی ہے۔ انشاءاللہ شہداء کا مقدس خون ضرور رنگ لائے گا اور مقبوضہ جموں و کشمیر جلد آزاد ہو گا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔
اقوام عالم بھارتی حکومت کی جانب سے وکلاء کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے، چوہدری نعیم اختر
