سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں مقبوضہ علاقے کی ریاستی شناخت کی بحالی اور مودی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینے کے خلاف 3 اگست کو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کی کال آل پارٹی یونائیٹڈ فرنٹ نے دی ہے جو جموں میں قائم مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی گروپوں کا اتحاد ہے۔ فرنٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 3 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی ریاستی شناخت کی بحالی اور مودی حکومت کی طرف سے ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019ء میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کے خلاف جموں میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور مظاہرہ کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق ان ترامیم کا مقصد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینا ہے۔ احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کا فیصلہ فرنٹ میں شامل مختلف کشمیری سیاسی جماعتوں اور سماجی گروپوں کے سربراہان کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں سابق رکن پارلیمنٹ شیخ عبدالرحمان کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ اس سے قبل آل پارٹی یونائیٹڈ فرنٹ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو مزید مضبوط کرنے کی غرض سے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینے کے خلاف بھوک ہڑتال کا بھی اعلان کیا تھا۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے ) مقبوضہ کشمیر شاخ کے سربراہ منیش ساہنی نے اجلاس میں کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل جمہوریت اور جمہوری اقدار کا مذاق اڑا رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی ریاستی شناخت کی بحالی کیلئے 3 اگست کو احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا
