سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مودی حکومت کی طرف سے ڈھائے جانیوالے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مشعال حسین ملک نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز میں ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے 1989ء سے مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافے پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 96 ہزار 320 بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار 264 خواتین کی آبروریزی کی ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ بھارتی قابض فورسز کشمیریوں کے قتل عام، ظلم و تشدد، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور آزادی اظہار رائے پر قدغن سمیت گھنائونے جرائم میں براہ راست طور پر ملوث ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں لاکھوں کشمیریوں کو غیر انسانی محاصرہ کر رکھا ہے۔ مشعال ملک نے کشمیریوں پر ظلم و تشدد، دوران تفتیش انہیں بجلی کا کرنٹ لگانے اور وحشیانہ جسمانی و ذہنی تشدد کی بھی مذمت کی جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری دوران حراست شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کا فوجی محاصرہ فوری ختم کرے اور 5 اگست 2019ء کے اپنے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو واپس لے۔کانفرنس کے دیگر شرکاء بشمول الطاف وانی، شمیم شال، سید فیض نقشبندی، بیرسٹر ندا سلام، ڈاکٹر وسیم اور ڈاکٹر وقاص علی کوثر نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں فوری بند کرانے کا مطالبہ کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم میں اضافے کی مذمت
